دہشتگردی میں سہولتکاری کے الزام میں گرفتار مفتی ظفر یاب نے دورانِ تفتیش ایسے انکشافات کیے ہیں جن کے بعد ماہرین نے غیر قانونی مدارس کی مؤثر نگرانی اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گرفتار شخص، جس کی شناخت مفتی ظفر یاب کے نام سے کی گئی ہے، نے بیان دیا کہ اس نے درس نظامی کی 8 سالہ تعلیم جامع نظام العلوم، شعبہ یتیم خانہ بنوں سے حاصل کی، جبکہ 3 سالہ تخصص فی الفقہ المرکز الاسلامی غوریوالہ سے مکمل کیا۔
ملزم نے دورانِ تفتیش دعویٰ کیا کہ وہ خارجی کمانڈر حکمت روشان کا قریبی ساتھی اور گل بہادر شوریٰ سے وابستہ رہا۔ اس نے کہا کہ بعض عناصر جہاد کے نام پر بھتہ خوری، سرمایہ داروں کو دھمکانے اور اپنے مقاصد کے لیے غیر شرعی فتاویٰ حاصل کرتے تھے، جبکہ اس مقصد کے لیے مختلف افراد کو مالی فوائد، عہدوں اور دیگر مراعات کی پیشکش بھی کی جاتی تھی۔
گرفتار خارجی سہولتکار کے دہشتگردی اور بھتہ خوری سے متعلق اہم انکشافات، غیر قانونی مدارس کی نگرانی پر زور
مفتی ظفر یاب نے دورانِ تفتیش ایسے انکشافات کیے ہیں جن کے بعد ماہرین نے غیر قانونی مدارس کی مؤثر نگرانی اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔@KulAalam pic.twitter.com/zO6J8oceXg— Media Talk (@mediatalk922) July 22, 2026
ملزم کے مطابق فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ گروہ ایسے نظریات رکھتا ہے جو مسلمانوں کے قتل کو بھی جائز قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگرد عناصر اپنے مقاصد کے لیے غیر قانونی مدارس اور خود ساختہ مذہبی شخصیات کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماہرین نے یاد دلایا کہ وفاق المدارس العربیہ سمیت اتحاد تنظیمات مدارس کے درمیان 2019 سے مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق معاہدہ نافذ العمل ہے، تاہم اس پر مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں:ریاست مخالف پروپیگنڈے اور سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام غیر قانونی مدارس اور ان سے متعلق سرگرمیوں کی شفاف جانچ پڑتال، حکومتی نگرانی، نصاب میں یکسانیت اور معیارِ تعلیم کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ شدت پسندی اور دہشتگردی کے رجحانات کی مؤثر روک تھام کی جا سکے۔














