ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) کا دورہ کیا، جہاں انہیں پاکستان کے جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ایرانی وفد میں پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی وفد کے ہمراہ موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعظم سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، شہباز شریف کا مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اقدامات پر زور
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ایرانی وفد کا خیرمقدم کیا اور انہیں این ڈی ایم اے کے ادارہ جاتی ڈھانچے، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم، پیشگی انتباہی نظام، قومی وسائل کے مؤثر استعمال اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے بروقت اقدامات سے آگاہ کیا۔
وفد کو سال 2026 کے دوران پاکستان اور ہمسایہ ممالک کو درپیش ممکنہ قدرتی آفات اور دیگر خطرات کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ این ای او سی کی صلاحیت، مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور مختلف قومی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
یہ بھی پڑھیے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، علاقائی سلامتی اور سرحدی انتظام پر تبادلہ خیال
اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے پاکستان اور ایران کے درمیان آفات سے نمٹنے کے شعبے میں تعاون، مشترکہ استعداد کار میں اضافے اور تجربات کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی سطح پر مؤثر تعاون دونوں ممالک کو قدرتی آفات کے چیلنجز سے بہتر انداز میں نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے این ڈی ایم اے کے جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ ماڈل، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور خطرات کے تدارک کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو سراہتے ہوئے اسے قابلِ تقلید قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران، ابتدائی وارننگ سسٹمز، پیشگی آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے شعبوں میں پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔
اسکندر مومنی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان قدرتی آفات سے نمٹنے، استعداد کار میں اضافے اور تکنیکی تجربات کے تبادلے سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کی اجتماعی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے پاکستان دورے کا کیا مقصد ہے؟
ایرانی وزیر داخلہ نے قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
دورے کے اختتام پر دونوں ممالک نے قدرتی آفات سے نمٹنے، ابتدائی وارننگ سسٹمز کو مزید مؤثر بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور استعداد کار میں اضافے کے لیے باہمی تعاون اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ این ڈی ایم اے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے قومی استحکام اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔













