مصنوعی ذہانت کن ملازمتوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے؟ نئی تحقیق نے اہم شعبوں کی نشاندہی کر دی

بدھ 22 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی تیزی سے ترقی نے دنیا بھر میں ملازمتوں کے مستقبل سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ اے آئی نہ صرف کئی کام خود انجام دے سکے گی بلکہ متعدد شعبوں میں انسانی افرادی قوت کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی جبکہ بعض ملازمتوں میں انسان اور اے آئی مل کر کام کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ملازمتیں نہیں کھا رہی کام کا انداز بدل رہی ہے، جونیئرز سیکھنے سے محروم ہوسکتے ہیں، معروف بینکار ڈیوڈ سولومن

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا کی بڑی کمپنیاں اربوں ڈالر اے آئی ٹیکنالوجی پر خرچ کر رہی ہیں کیونکہ انہیں امید ہے کہ اس کے ذریعے اخراجات میں کمی اور کام کی رفتار میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔

ان کا کہنا ہےکہ اب کمپنیوں میں یہ سوال عام ہو چکا ہے کہ آیا نئی بھرتیاں کی جائیں یا پھر مخصوص ذمہ داریاں اے آئی ایجنٹس کے سپرد کر دی جائیں جو ورچوئل ملازمین کی طرح مختلف پیشہ ورانہ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نوبیل انعام یافتہ ماہرین معاشیات نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت مؤثر پالیسیاں نہ بنائی گئیں تو اے آئی معیارِ زندگی بہتر بنانے کے بجائے بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں کاروباری اداروں نے شکایت کی ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار تبدیلیوں کے باعث انہیں مطلوبہ مہارت رکھنے والے افراد کی کمی کا سامنا ہے۔

تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق صرف 3 برس پہلے بڑے لینگویج ماڈلز چند سیکنڈ یا چند منٹ میں مکمل ہونے والے آسان کام انجام دینے کے قابل تھے لیکن اب جدید ماڈلز ایک گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت لینے والے پیچیدہ کام بھی انجام دینے لگے ہیں۔

مزید پڑھیے: اے آئی کے بڑھتے اثرات، خواتین کی ملازمتیں اگلے 10 سال میں ختم ہو جائیں گی؟

رپورٹ کے مطابق بعض جدید اے آئی ماڈلز کرپٹو کرنسی کے معاہدوں میں خامیاں تلاش کرنے، پیچیدہ سافٹ ویئر کو بہتر بنانے اور ایسے پروگرام تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جنہیں مکمل کرنے میں انسان کو کئی گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ ایک سے 2 برس کے دوران یہ ماڈلز مزید خودمختار ہو سکتے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق یہ تبدیلی صرف سافٹ ویئر انجینیئرنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ مالیاتی تجزیے، ابتدائی قانونی خدمات، کسٹمر سروس اور تخلیقی شعبوں کی ابتدائی سطح کی ملازمتیں بھی اس کے اثرات محسوس کر رہی ہیں۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی 4 سالہ تحقیق کے مطابق چیٹ جی پی ٹی اور دیگر جدید اے آئی ٹولز عام ہونے کے بعد 22 سے 25 سال عمر کے نوجوانوں کی ملازمتوں میں مجموعی طور پر 2.7 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وہ شعبے جو اے آئی سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں مثلاً فنانس، سافٹ ویئر اور تخلیقی صنعتوں میں یہ کمی 12.8 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔

اگرچہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ملازمتوں میں کمی کی وجہ صرف اے آئی نہیں بلکہ بلند شرحِ سود اور دیگر معاشی عوامل بھی ہو سکتے ہیں تاہم متعدد تجزیوں میں اے آئی کو ایک اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: اے آئی کے باعث سوچنے کی صلاحیت متاثر، سافٹ ویئر انجینیئرز بھی خود کو بے مقصد تصور کرنے لگے

او ای سی ڈی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ٹیلی مارکیٹنگ، قانونی خدمات اور دیگر دفتری پیشوں میں ملازمتوں کے اشتہارات میں نمایاں کمی دیکھی گئی جبکہ تعمیرات، صفائی اور خوراک کی تیاری جیسے شعبوں پر اس کے اثرات نسبتاً کم رہے۔

ماہرین کے مطابق برطانیہ جیسی معیشتیں جہاں خدمات کا شعبہ زیادہ بڑا ہے وہاں اے آئی سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے لیے زیادہ حساس سمجھی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2026 کے دوران اے آئی کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ کمپنیاں اپنی کارکردگی جانچنے کے لیے ‘ٹوکن لیڈر بورڈز‘ استعمال کر رہی ہیں تاکہ ملازمین زیادہ سے زیادہ اے آئی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ٹوکن وہ بنیادی اکائیاں ہیں جن کے ذریعے اے آئی متن کو سمجھتی اور تیار کرتی ہے۔

تاہم اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے۔ بڑی کمپنیوں نے خودکار اے آئی ایجنٹس کے ذریعے کھربوں ٹوکن استعمال کیے، جس کے نتیجے میں ان کے اخراجات غیر معمولی حد تک بڑھ گئے۔ اسی وجہ سے کئی اداروں نے اب جدید اے آئی ماڈلز کے استعمال پر حدود مقرر کرنا شروع کر دی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت بہت سی روایتی ملازمتوں کی نوعیت بدل سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ نئی مہارتوں اور نئے پیشوں کے دروازے بھی کھلیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: وکلا اور اکاؤنٹنٹس کی ملازمتیں شدید خطرے میں: مائیکروسافٹ اے آئی کے سربراہ کا انتباہ

ان کا مزید کہنا ہے کہ مستقبل میں وہی افراد زیادہ کامیاب ہوں گے جو اے آئی کو اپنا متبادل سمجھنے کے بجائے اسے اپنے کام کا مؤثر معاون بنانا سیکھ لیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تربت: فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

امن کا پیغام ایک بار پھر ٹیکسلا سے بلند ہونا چاہیے، جاپانی راہب جونسی تیراساوا

کالعدم بی ایل ایف نے آوران میں خاتون کو اغوا کے بعد قتل کردیا، روبینہ کے والد کا انصاف کا مطالبہ

لاہور سمیت کئی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سیکیورٹی صورتحال کشیدہ

ویڈیو

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن میں پولنگ جاری، سخت سیکیورٹی انتظامات

پہلا ٹیسٹ: پہلی انگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں