پنجاب کے مختلف شہروں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے ہونے والی شدید بارشوں نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے، جبکہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق مون سون بارشوں کے آغاز سے اب تک مختلف واقعات میں 17 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
واسا کے مطابق لاہور میں 123 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ گوجرانوالہ میں ریکارڈ 245 ملی میٹر، گجرات میں 95 ملی میٹر بارش ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں، مریم نواز کی ہدایت
پی ڈی ایم اے کے مطابق سیالکوٹ میں 139 ملی میٹر، منڈی بہاؤالدین میں 138 ملی میٹر، نارووال میں 117 ملی میٹر، حافظ آباد میں 85 ملی میٹر، چکوال میں 70 ملی میٹر، اوکاڑہ میں 64 ملی میٹر، جھنگ میں 35 ملی میٹر، لیہ میں 33 ملی میٹر اور جہلم میں 32 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
حکام کے مطابق مون سون کے دوران بارشوں سے متعلق حادثات میں جاں بحق ہونے والے 17 افراد میں سے 12 اموات عمارتوں یا دیگر تعمیرات کے گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے اور 3 بجلی کا کرنٹ لگنے کے باعث ہوئیں۔
Gujranwala and Wazirabad have witnessed record-breaking rainfall since yesterday, surpassing all previous records. Yet, despite nearly half of Gujranwala being dug up for Metro construction and the installation of a massive sewage and drainage network, the city’s major roads were… pic.twitter.com/pUWkMs3axR
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) July 22, 2026
شدید بارش کے بعد لاہور سمیت پنجاب کے کئی بڑے شہروں میں سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لاہور کے کریم بلاک مارکیٹ، جوہر ٹاؤن، ٹاؤن شپ، فیروزپور روڈ، ملتان روڈ، سمن آباد، گلشن راوی، لکشمی چوک اور ماڈل ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں میں بارشی پانی جمع ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گوجرانوالہ میں سول لائنز کے علاقے میں شمسی انڈر پاس پانی سے مکمل بھر گیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں لاہور کی مختلف شاہراہوں پر پانی جمع نظر آیا، جبکہ بعض شہریوں نے بارش کے بعد طویل بجلی بندش کی شکایات بھی کیں۔
دوسری جانب واسا لاہور نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ شہر کی بیشتر اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر پانی جمع نہیں ہوا، جبکہ مون سون کنٹرول روم سے نکاسی آب کے کاموں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
واسا حکام کے مطابق پنجاب کے 41 اضلاع میں بارشی پانی کی نکاسی کا عمل جاری ہے، جبکہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ تمام فیلڈ ٹیموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ مون سون اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے دوران نہروں، دریاؤں اور برساتی نالوں کے قریب جانے یا نہانے سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی موسمیاتی ادارے کی وارننگ، گرمی کی نئی لہر اور غیر معمولی بارشیں متوقع
صوبائی وزیرِ ہاؤسنگ بلال یاسین نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ نشیبی علاقوں سے پانی کے فوری اخراج کو ترجیح دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ معمول سے زیادہ بارشوں کی توقع کے پیش نظر پنجاب بھر، خصوصاً لاہور کے نکاسی آب کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔














