واٹس ایپ کے یوزرنیم فیچر نے کئی ممالک کو پریشان کردیا، صومالیہ بھی بول پڑا، خدشات کیا ہیں؟

بدھ 22 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

واٹس ایپ کی جانب سے جلد متعارف کرائے جانے والے یوزرنیم فیچر پر صومالیہ نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلی دہشتگردی، مالی فراڈ اور سائبر جرائم کے خلاف جاری کارروائیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ صارفین کے لیے خوشخبری، پرائیویسی بڑھانے کے لیے نیا فیچر متعارف

بی بی سی کے مطابق صومالیہ کی حکومت نے اس معاملے پر میٹا سے باضابطہ رابطہ بھی کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فیچر متعارف کرانے سے پہلے اس کے سیکیورٹی پہلوؤں پر اطمینان بخش وضاحت فراہم کی جائے۔

صومالی وزیر برائے مواصلات و ٹیکنالوجی احمد عثمان دیری کا کہنا ہے کہ اگر صارفین فون نمبر کے بجائے صرف یوزرنیم کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گے تو مجرموں اور دہشتگرد عناصر کا سراغ لگانا پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

شباب فائٹرز۔

انہوں نے کہا کہ صومالیہ کی صورتحال دنیا کے کئی دوسرے ممالک سے مختلف ہے کیونکہ ملک 2 دہائیوں سے القاعدہ سے وابستہ شدت پسند تنظیم الشباب کی شورش کا سامنا کر رہا ہے جبکہ معیشت کا بڑا حصہ موبائل منی سروسز پر انحصار کرتا ہے۔

واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا نے بتایا کہ یہ فیچر ابھی تک متعارف نہیں کرایا گیا اور صارفین کو اکاؤنٹ بنانے اور استعمال کرنے کے لیے بدستور فون نمبر درکار ہوگا۔ کمپنی کے مطابق نئے فیچر میں آن لائن فراڈ اور دھوکا دہی سے بچاؤ کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: واٹس ایپ یوزرنیم: جعلسازی اور اہم شخصیات سے ملتے جلتے نام رکھے جانے کے خدشات بڑھ گئے

تاہم احمد عثمان دیری کا کہنا تھا کہ صومالیہ کی حکومت پہلے ہی میٹا سے رابطہ کر چکی ہے اور امید ہے کہ اس معاملے پر جلد کسی متفقہ حل تک پہنچا جائے گا۔

ان کے مطابق اگر صارفین ایسے یوزرنیم استعمال کریں جن کی شناخت آسانی سے نہ ہو سکے تو مالی فراڈ، جعلسازی اور شہریوں کو دھوکا دینے کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

صومالیہ میں شدت پسند تنظیم الشباب ماضی میں بھی واٹس ایپ کو بھتہ خوری، دھمکیوں اور اپنی تشہیری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ صومالیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی نے سنہ 2024 میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے الشباب سے منسلک 20 واٹس ایپ گروپس بند کیے تھے جو بھتہ وصول کرنے اور شہریوں کو دھمکانے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے جبکہ ان سے وابستہ تقریباً 2,500 فون نمبروں کی ڈیٹا سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

واٹس ایپ کے مجوزہ یوزرنیم فیچر پر صرف صومالیہ ہی نہیں بلکہ بھارت نے بھی اعتراض اٹھایا ہے۔ بھارت جہاں واٹس ایپ کے 85 کروڑ سے زائد صارفین موجود ہیں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فون نمبر چھپ جانے کی صورت میں جعلساز اور سائبر مجرم جعلی شناخت کے ذریعے لوگوں کو آسانی سے نشانہ بنا سکیں گے۔ بھارتی حکومت نے بھی میٹا سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کی تشفی تک اس فیچر کو متعارف نہ کرایا جائے۔

مزید پڑھیں: واٹس ایپ میں یوزر نیم بنانے کی سہولت: سیکیورٹی خدشات کا اظہار اور میٹا کی وضاحت

صومالیہ کے وزیر کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں فون نمبر کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم پیشہ افراد تک نسبتاً آسانی سے پہنچ جاتے ہیں لیکن اگر رابطے کا ذریعہ صرف یوزرنیم رہ جائے تو مجرموں کی شناخت مشکل ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میٹا کو واضح طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ فون نمبر چھپانے کے باوجود مجرموں کا سراغ لگانے کی صلاحیت متاثر نہیں ہوگی اور مالی فراڈ سے بچاؤ کے لیے مؤثر حفاظتی نظام موجود ہوگا۔

ان کے مطابق اگر کمپنی اس حوالے سے قابل اعتماد یقین دہانی کرا دیتی ہے تو حکومت کو اس فیچر کے اجرا پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

افریقی ٹیکنالوجی بلاگر موسیٰ کیمبارو کے مطابق واٹس ایپ کا نیا فیچر بنیادی طور پر صارفین کی رازداری بہتر بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد واٹس ایپ بھی میٹا کی دیگر سروسز جیسے انسٹاگرام کی طرح کام کرے گا جہاں صارف کی شناخت فون نمبر کے بجائے یوزرنیم سے ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: واٹس ایپ پروفائلز کو مزید منفرد بنانے کے لیے ‘کور فوٹو’ فیچر شامل کرنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ اس سے نجی گفتگو مزید محفوظ ہو سکتی ہے تاہم مختلف ممالک کے سیکیورٹی خدشات بھی اپنی جگہ اہم ہیں کیونکہ اس تبدیلی کے نتیجے میں آن لائن فراڈ اور جعلی شناخت کے ذریعے جرائم کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

کیمبارو کے مطابق میٹا کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ اگر کوئی شخص یوزرنیم استعمال کرتے ہوئے جرم کرتا ہے تو کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے اس یوزرنیم کے پیچھے موجود حقیقی صارف تک پہنچ سکیں گے یا نہیں۔

دوسری جانب کینیا کے سیکیورٹی ماہر جارج موسامالی کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ کا یہ اقدام صارفین کی رازداری کے تحفظ کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق اکثر افراد شکایت کرتے ہیں کہ واٹس ایپ گروپس سے ان کے فون نمبر حاصل کر کے انہیں ہراساں کیا جاتا ہے اس لیے فون نمبر چھپانے سے ایسے مسائل میں کمی آ سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض ممالک میں حکومتیں واٹس ایپ گروپس کی معلومات استعمال کرکے اپنے ناقدین کو نشانہ بناتی ہیں ممکن ہے میٹا اس خدشے کو بھی کم کرنا چاہتا ہو۔

مزید پڑھیں: واٹس ایپ بزنس میں یکم اگست سے ٹوکن بیسڈ بلنگ کا نفاذ

ماہرین کے مطابق واٹس ایپ کے مجوزہ یوزرنیم فیچر نے ایک بار پھر صارفین کی رازداری اور قومی سلامتی کے درمیان توازن سے متعلق بحث کو تیز کر دیا ہے اور آنے والے مہینوں میں اس فیچر کے عالمی اجرا سے قبل مختلف حکومتوں اور میٹا کے درمیان مزید مشاورت کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے اور ایئر فرانس کا اشتراک، ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

راول ڈیم صفائی مہم، 200 سے زیادہ رضاکاروں کی شرکت، 2 ٹن کچرا اٹھا لیا

پاکستان میں مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ’آئی آر ایف پیس بلڈر فورم‘ اگست میں شروع ہوگا

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا

ویڈیو

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

کالم / تجزیہ

مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے