کشمیری مہاجرین کی 12 اسمبلی نشستیں: تاریخ، آئینی حیثیت اور موجودہ تنازع

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں صرف نمائندگی کا انتظام نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کی تاریخی، سیاسی اور آئینی حیثیت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ یہ نشستیں ان لاکھوں کشمیریوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو 1947 اور بعد کے مختلف ادوار میں بھارتی زیر مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان آئے اور جنہوں نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے اپنے آبائی گھر، زمینیں اور جائیدادیں چھوڑ دیں۔

حالیہ دنوں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ان 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، تاہم حکومت آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت دونوں واضح کر چکی ہیں کہ ان نشستوں کا خاتمہ کسی صورت قابل قبول نہیں کیونکہ یہ نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف سے براہ راست جڑی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: کشمیری مہاجرین کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، پاکستان اور کشمیر کا رشتہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا، خواجہ آصف

مہاجرین کی نشستوں کا تاریخی پس منظر

1947 میں تقسیم ہند کے بعد ریاست جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے اور جنگ کے نتیجے میں ہزاروں کشمیری خاندان پاکستان منتقل ہوئے۔ بعد ازاں مختلف ادوار میں مزید کشمیری مہاجرین پاکستان کے مختلف شہروں، خصوصاً پنجاب کے اضلاع راولپنڈی، جہلم، گجرات، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور دیگر علاقوں میں آباد ہوئے۔

چونکہ یہ افراد قانونی طور پر ریاست جموں و کشمیر کے باشندے تصور کیے جاتے ہیں، اس لیے انہیں آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی نظام میں نمائندگی دینے کے لیے قانون ساز اسمبلی میں نشستیں مختص کی گئیں تاکہ وہ اپنی سیاسی آواز برقرار رکھ سکیں، اور ووٹ کے حق سے محروم نہ ہوں۔

آئینی تحفظ کیوں حاصل ہے؟

آزاد جموں و کشمیر کا آئینی ڈھانچہ آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974 کے تحت قائم ہے۔ اسی آئین میں قانون ساز اسمبلی کی تشکیل اور مہاجرین کی نشستوں کا واضح تعین کیا گیا ہے۔

آئین کے تحت پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کے لیے مخصوص نشستیں اسمبلی کا مستقل حصہ ہیں۔ ان نشستوں کا خاتمہ یا ان میں تبدیلی صرف ایک سادہ انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ آئینی ترمیم کا تقاضا کرتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ان نشستوں کا بنیادی مقصد یہ تسلیم کرنا ہے کہ بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر کے عوام بھی ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہیں اور ان کی سیاسی نمائندگی برقرار رہنی چاہیے۔ یہی تصور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازع ریاست کی حیثیت سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔

پاکستان کے مؤقف کی علامت

پاکستان کئی دہائیوں سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ پورا جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔

مہاجرین کی 12 نشستیں اسی مؤقف کی عملی عکاسی سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ان کے ذریعے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں کی نمائندگی آزاد کشمیر کی اسمبلی میں برقرار رکھی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ نشستیں ختم کر دی جائیں تو اس سے پاکستان کے دیرینہ سفارتی مؤقف کے حوالے سے مختلف سوالات جنم لے سکتے ہیں، اسی لیے حکومت انہیں محض انتخابی حلقے نہیں بلکہ قومی پالیسی کا حصہ قرار دیتی ہے۔

کالعدم ایکشن کمیٹی کا مطالبہ

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ یہ 12 نشستیں ختم کرکے مہاجرین کو مخصوص نشستوں کے ذریعے اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔

حکومت کا دوٹوک مؤقف

وفاقی اور آزاد کشمیر حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں کشمیری مہاجرین کی قربانیوں کا اعتراف ہیں اور تحریک آزادی کشمیر کے تسلسل کی علامت بھی۔ حکومت کے مطابق کسی بھی دباؤ یا احتجاج کے نتیجے میں ان نشستوں کی آئینی حیثیت تبدیل نہیں کی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی قسم کی آئینی تبدیلی زیر غور بھی آئے تو اس کے لیے اسمبلی میں آئینی ترمیم، سیاسی اتفاق رائے اور قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہوگی، جبکہ اس وقت حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔

ماہرین کے مطابق جب تک مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حتمی حل نہیں نکلتا، تب تک مہاجرین کی نمائندگی کو برقرار رکھنا پاکستان کے آئینی، قانونی اور سفارتی مؤقف کا اہم جزو رہے گا۔

مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ بدنیتی پر مبنی ہے، جاوید ہاشمی

سینیئر تجزیہ کار جاوید اقبال ہاشمی نے کہاکہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور ان کے خاتمے کا مطالبہ بدنیتی پر مبنی ہے۔

’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت کا دوٹوک موقف ہے کہ مہاجرین کو کسی صورت ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جائےگا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ یا کمی اس لیے چاہتی ہے کہ پنجاب میں ان کی پارٹی موجود ہی نہیں اور زیادہ نشستیں ہی اس صوبے میں ہیں۔ ’پیپلز پارٹی کا مطالبہ کسی اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی بنیاد پر ہے۔‘

مہاجرین کے بغیر آزاد کشمیر حکومت کا کوئی جواز نہیں بنتا، راجا کفیل

تجزیہ کار راجا کفیل احمد نے کہاکہ مہاجرین کے بغیر آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کا کوئی وجود ہی نہیں بنتا۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے، یہ کوئی مستقل حکومت نہیں، اور جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو جاتا مہاجرین کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا دوٹوک فیصلہ ہے کہ کسی بھی صورت مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے پر کسی سے بات چیت نہیں ہوگی۔

کشمیری مہاجرین کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خواجہ اے متین

تجزیہ کار خواجہ اے متین بھی جاوید ہاشمی اور راجا کفیل احمد سے اتفاق کرتے ہیں، ان کے مطابق مہاجرین مقیم پاکستان نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے، ان کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہاکہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں پر سوال اٹھانے والوں کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے، ان نشستوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے، اور ریاست کی بھی دوٹوک پالیسی ہے کہ ان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں: آزادکشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں کیوں ضروری ہیں اور آئین کیا کہتا ہے؟

انہوں نے مزید کہاکہ مہاجرین کی نشستوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ مودی کے ایجنڈے کی تکمیل ہو سکتی ہے، اور اس سے مسئلہ کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تربت: فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

امن کا پیغام ایک بار پھر ٹیکسلا سے بلند ہونا چاہیے، جاپانی راہب جونسی تیراساوا

کالعدم بی ایل ایف نے آوران میں خاتون کو اغوا کے بعد قتل کردیا، روبینہ کے والد کا انصاف کا مطالبہ

لاہور سمیت کئی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سیکیورٹی صورتحال کشیدہ

ویڈیو

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن میں پولنگ جاری، سخت سیکیورٹی انتظامات

پہلا ٹیسٹ: پہلی انگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں