آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشنز نے ڈیلرز مارجن میں اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا پرانا نظام بحال کرنے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے 22جولائی رات 12بجے سے ملک بھر کے پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم وفاقی حکومت سے مذاکرات کے بعد پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشنز نے یہ فیصلہ مؤخر کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول پمپس مالکان کا ملک بھر میں پمپس بند کرنے کا کا اعلان
وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آل پاکستان پیٹرول پمپس ایسوسی ایشنز کے ترجمان ندیم خان نے پیٹرول پمپس بند کرنے کا فیصلہ مؤخر کرنے کا اعلان کیا، آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشنز نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ 22 جولائی رات 12بجے سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کیے جائیں گے۔
پیٹرول پمپس مالکان کے مطالبات کیا تھے اور انہوں نے ہڑتال موخر کیوں کی؟
وی نیوز سے گفتگو میں پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر راجہ وسیم نے اس معاملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پیٹرول پمپ مالکان کو فی لیٹر پیٹرول کی فروخت پر تقریباً 2 فیصد مارجن دیا جاتا ہے، جو موجودہ قیمتوں کے حساب سے تقریباً 8 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔
تاہم، ان کے مطابق یہ مکمل رقم بھی پمپ مالکان کے پاس نہیں رہتی۔ انہوں نے بتایا کہ اس 8 روپے میں سے تقریباً 1 روپے 30 پیسے تیل فراہم کرنے والی کمپنیاں وصول کرلیتی ہیں۔ مزید برآں، شہری علاقوں خصوصاً اسلام آباد اور راولپنڈی میں زیادہ تر ادائیگیاں ڈیجیٹل یا کارڈ کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جن پر بینک تقریباً 2 روپے فی لیٹر تک چارجز وصول کرتے ہیں۔ یوں عملی طور پر پمپ مالکان کے پاس فی لیٹر بہت کم رقم بچتی ہے، جبکہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
راجہ وسیم کے مطابق پمپ مالکان کو ملازمین کی تنخواہیں، مہنگے کرائے، سکیورٹی اخراجات اور بجلی کے بھاری بل ادا کرنا پڑتے ہیں، جو بعض صورتوں میں ماہانہ 10 لاکھ روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشنز نے ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کردیا، وفاقی حکومت کی مسائل کے حل کی یقین دہانی
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں 8 روپے فی لیٹر کے مارجن سے کاروبار چلانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسوسی ایشن گزشتہ کئی برسوں سے مارجن بڑھانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بجلی، ملازمین کی تنخواہوں، کرایوں، سکیورٹی، ٹیکسز، جنریٹرز کے اخراجات، دیکھ بھال اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بینک چارجز میں مسلسل اضافے کے باعث موجودہ مارجن کے ساتھ پیٹرول پمپ چلانا معاشی طور پر ممکن نہیں رہا۔
ڈیلرز مارجن میں آخری بڑا اضافہ اگست 2022 میں کیا گیا تھا، جب وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ڈیلرز مارجن میں 69.49 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 4 روپے 13 پیسے سے بڑھا کر 7 روپے فی لیٹر مقرر کیا تھا۔ اس فیصلے کے تحت فی لیٹر 2 روپے 87 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا۔
بعد ازاں مالی سال 2024-25 کے دوران آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ڈیلرز مارجن میں ایک روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی، تاہم پیٹرولیم ڈویژن نے اسے کم کرتے ہوئے ایک روپے 12 پیسے فی لیٹر کرنے کی تجویز دی۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ بھی بڑھتے ہوئے اخراجات کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہوا۔
ایسوسی ایشن کا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کے بجائے دوبارہ 15 روزہ یا ماہانہ بنیادوں پر کیا جائے۔ ڈیلرز کے مطابق روزانہ قیمتوں میں ردوبدل سے کاروباری منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے اور صارفین میں بھی غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان بھر میں پیٹرول کی قلت، پمپس پر شہریوں کی لمبی قطاریں، وجہ کیا ہے؟
تیسرا مطالبہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے نافذ کیے گئے کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے سے متعلق ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اس نظام کی وجہ سے کئی پیٹرول پمپوں کو مطلوبہ مقدار میں مصنوعات کی فراہمی نہیں ہو رہی، جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 18 جولائی کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا اختیار آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سپرد کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا نیا نظام نافذ کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد اوگرا روزانہ نئی قیمتوں کا اعلان اپنی ویب سائٹ پر جاری کررہی ہے۔
نئے نظام کے تحت 18 جولائی کی رات پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد سے قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور قیمتوں میں ردوبدل کیا جارہا ہے۔
حکومت کے اس فیصلے کے خلاف پیٹرول پمپس مالکان نے احتجاجاً 22جولائی رات 12 بجے سے ملک بھر کے پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم آج پیٹرول پمپس ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں کی وفاق وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد انہوں نے علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔
اس موقع پر پیٹرول پمپس ایسوسی ایشن کے اطلاعات سیکریٹری ندیم عزیز خان نے کہا کہ وزیرِ مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پیٹرول پمپ مالکان کے مطالبات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ای سی سی اجلاس: گاڑیوں کی درآمد کا طریقہ کار تبدیل، پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کی منظوری
انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2022 سے زیرِ التوا پیٹرول پمپ مالکان کے کمیشن مارجن کے معاملے کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی ہے اور اس حوالے سے تحریری معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔
ندیم عزیز خان نے کہا کہ انہیں علی پرویز ملک پر مکمل اعتماد ہے اور امید ہے کہ 2 ہفتوں کے اندر کمیشن مارجن کا مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے معاملے کو بھی 2 ہفتوں کے لیے آزمائشی بنیادوں پر جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس دوران اس نظام کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا، اور اگر عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہوا تو اسے جاری رکھا جائے گا، بصورت دیگر دوبارہ غور کیا جائے گا۔














