انٹرفیتھ لیگ اگینسٹ پاورٹی (آئی لیپ) نے پاکستان میں مذہبی آزادی، بین المذاہب مکالمے اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم (آئی آر ایف) پیس بلڈر فورم پاکستان کے قیام کا اعلان کر دیا ہے جس کا باقاعدہ آغاز اگست 2026 میں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مذہبی ہم آہنگی اور اتحادِ امت کی شاندار مثال، تمام مکاتب فکر کی ایک امام کے پیچھے نماز کی ادائیگی
اس منصوبے کا اعلان آئی لیپ پاکستان اور امریکا کے چیئرمین و صدر ساجد سندھو نے واشنگٹن ڈی سی میں ہارٹ سینیٹ آفس بلڈنگ میں منعقدہ تقریب کے دوران کیا جہاں انہوں نے مذہبی آزادی، آئینی مکالمے اور مختلف طبقات کے درمیان تعاون کے ذریعے امن کو فروغ دینے کی نئی حکمت عملی پیش کی۔
ساجد سندھو نے کہا کہ آئی آر ایف پیس بلڈر فورم پاکستان میں مذہبی آزادی کے فروغ کی کوششوں میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ان کے مطابق پائیدار امن کا راستہ مکالمے، باہمی احترام اور شراکت داری سے ہو کر گزرتا ہے جبکہ اختلافات کے بجائے اعتماد سازی کے مواقع پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگست 2026 میں شروع ہونے والا یہ فورم حکومتی نمائندوں، ارکان پارلیمنٹ، عدلیہ، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں، علما، میڈیا، ماہرینِ تعلیم، نوجوان قیادت اور دیگر متعلقہ فریقین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گا تاکہ مذہبی آزادی، انسانی وقار اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔
ساجد سندھو نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے آئینی ڈھانچے کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے اور اس کا مقصد شہریوں کو آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے حقوق کے مؤثر نفاذ میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 20 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ شق ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور مذہبی اداروں کے قیام، انتظام اور دیکھ بھال کا حق دیتی ہے۔
مزید پڑھیے: قلات کے ہندو تاجروں کا ’جذبہ ایثار‘ مذہبی ہم آہنگی کی بہترین مثال بن گیا
ان کے مطابق فورم کا مقصد آرٹیکل 20 پر مؤثر عمل درآمد کے حوالے سے تعمیری مکالمے کی حوصلہ افزائی کرنا اور ضرورت پڑنے پر آئینی و جمہوری طریقہ کار کے تحت مذہبی آزادی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی غور کرنا ہے۔
ساجد سندھو نے کہا کہ آئی-لیپ کی سرگرمیاں بین الاقوامی انسانی حقوق کے تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق ہیں جن میں عالمی منشورِ انسانی حقوق کے آرٹیکل 18 میں ہر فرد کو فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی آر ایف پیس بلڈر فورم ایک غیرجانبدار پلیٹ فارم فراہم کرے گا جہاں مختلف پس منظر رکھنے والے افراد عملی تجاویز پیش کریں گے، کامیاب تجربات کا تبادلہ کریں گے اور ایسی پالیسیوں کی حمایت کریں گے جو پاکستان کے آئینی اور جمہوری نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے مذہبی آزادی کو فروغ دیں۔
ساجد سندھو کا کہنا تھا کہ مذہبی آزادی کا فروغ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ، مذہبی برادریوں، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، میڈیا اور دیگر بااثر حلقوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں مثالی مذہبی اہم آہنگی موجود اور تمام اقلیتیں محفوظ ہیں، کھیئل داس کوہستانی
انہوں نے کہا کہ آئی-لیپ نے حالیہ برسوں میں ایسے طبقات کو بھی مذہبی آزادی کے مکالمے میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے جو ماضی میں ان مباحث کا حصہ نہیں رہے۔ ان کے مطابق آئی آر ایف سمٹ 2026 کے دوران ارکانِ پارلیمنٹ اور مسلح افواج کے ریٹائرڈ سینئر افسران کو بھی انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم سے متعلق گفتگو میں شریک کیا گیا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہوئی۔
ساجد سندھو نے کہا کہ مفروضے قائم کرنے کے بجائے تعلقات استوار کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہے کیونکہ مکالمہ تعاون کو جنم دیتا ہے اور تعاون دیرپا امن کی بنیاد بنتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مضبوط بنانے، مذہبی بنیادوں پر تشدد اور انتہا پسندی کے خاتمے اور تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ ریاستی اداروں، مذہبی قیادت اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون سے ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں ہر فرد مذہب یا عقیدے سے قطع نظر عزت، تحفظ اور مساوی حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
انہوں نے بتایا کہ فورم کی حکمت عملی میں حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ، مذہبی برادریوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطے، تحقیق، تعلیم، بین المذاہب تعاون اور پالیسی سازی کے ذریعے آئینی حقوق سے متعلق آگاہی پیدا کرنا شامل ہوگا۔
تقریب کے اختتام پر ساجد سندھو نے کہا کہ ان کا مشن صرف مذہبی اقلیتوں کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ مساوی شہریت، قانون کی حکمرانی اور ایسے پاکستان کے قیام کو فروغ دینا ہے جہاں ہر شہری کو آئین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق اپنے حقوق میسر ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کی اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علمائے کرام سے ملاقات، اتحاد، برداشت اور ہم آہنگی پر زور
آئی لیپ کے مطابق انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم پیس بلڈر فورم – پاکستان کا باقاعدہ آغاز اگست 2026 میں ہوگا جس میں ملکی اور بین الاقوامی شراکت دار شرکت کریں گے تاکہ مذہبی آزادی، انسانی وقار اور پاکستان میں پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔














