قومی شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے نئی فورس تشکیل دی جارہی ہے، معاون وزیر داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی

جمعرات 23 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معاون خصوصی برائے محکمہ داخلہ بلوچستان بابر یوسف زئی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے قومی شاہراہوں پر دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے اور مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے خصوصی فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ فورس جدید اسلحے، خصوصی تربیت اور تیز رفتار ریسپانس صلاحیت سے لیس ہوگی اور صوبے کی اہم شاہراہوں پر سیکیورٹی کو یقینی بنائے گی۔

مزید پڑھیں: بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی ملاقات، دہشتگردی کے خاتمے، سیاسی مذاکرات اور اے پی سی پر اتفاق

انہوں نے کہاکہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے اور قومی شاہراہوں پر دہشتگردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔

بابر یوسفزئی نے کہاکہ بلوچستان میں دہشتگردی کی حالیہ لہر خصوصاً پشتون بیلٹ میں دیکھی گئی ہے، جہاں زیارت، حنہ اوڑک، قلعہ عبداللہ، ہرنائی اور دیگر علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئے۔

ان کے مطابق حکومتی معلومات کے مطابق ان حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عناصر، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ساتھ مل کر کارروائیاں کررہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ دہشتگردی کی حالیہ لہر کے پیچھے تین بنیادی عوامل ہیں، جن میں سرحد پار دراندازی، حالیہ عسکری کامیابیوں کے بعد شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ اور سرحدی بندشوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ملحق تقریباً 1260 کلومیٹر طویل سرحد دشوار گزار پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے، جس کے باعث دراندازی کو مکمل طور پر روکنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

معاون وزیر داخلہ نے کہاکہ دہشتگرد گوریلا جنگ کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ حملہ کرتے ہیں، چند منٹ کے لیے شاہراہیں بند کرتے ہیں اور پھر آبادی میں چھپ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی فوری شناخت اور گرفتاری مشکل ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت بلوچستان، پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سیکیورٹی ادارے مشترکہ طور پر دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ زیارت، حنہ اوڑک اور دیگر علاقوں میں پولیس اور مقامی قبائل نے دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کیا، جبکہ مختلف علاقوں میں آپریشنز بھی جاری ہیں۔

بابر یوسفزئی نے کہاکہ حکومت بلوچستان کی جانب سے پولیس کو جدید ہتھیار، بہتر تربیت اور وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ لیویز کو پولیس میں ضم کرنے سمیت سیکیورٹی ڈھانچے میں اصلاحات بھی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت خصوصی ہائی وے پروٹیکشن فورس تشکیل دے رہی ہے، جو قومی شاہراہوں پر مستقل گشت کرے گی، جدید آلات سے لیس ہوگی اور مسافروں کو محفوظ سفر کی سہولت فراہم کرے گی۔

زیارت سانحے کے بعد ہونے والے دھرنوں کے حوالے سے معاون وزیر داخلہ نے کہاکہ حکومت نے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا اور کامیاب مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی مسائل کو بات چیت سے حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صرف دفاعی اقدامات کافی نہیں، بلکہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں بھی ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت اور محکمہ داخلہ اس حوالے سے جامع پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: دہشتگردی کی کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی، وزیراعلیٰ بلوچستان کا 4 ہزار طلبہ سے براہِ راست مکالمہ

بابر یوسفزئی نے اس عزم کا اظہار کیاکہ حکومت بلوچستان دہشتگردی کے خاتمے، عوام کے تحفظ اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی، اور قومی شاہراہوں سمیت پورے صوبے میں امن کی بحالی کو ہر صورت یقینی بنایا جائےگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp