بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی ملاقات، دہشتگردی کے خاتمے، سیاسی مذاکرات اور اے پی سی پر اتفاق

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے درمیان زرداری ہاؤس اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی، انتظامی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی اور ریاست مخالف پروپیگنڈا ناکام ہوگا، بلوچستان میں امن ہر صورت قائم کریں گے، سرفراز بگٹی

ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے چیئرمین پیپلزپارٹی کو صوبے میں دہشتگردی کی حالیہ لہر، امن و امان کی صورتحال اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

میر سرفراز بگٹی نے بلاول بھٹو زرداری کو بتایا کہ زیارت سانحے کے متاثرہ خاندانوں سے مسلسل رابطہ رکھا گیا، ان کی دلجوئی کی گئی اور ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ لواحقین کے مطالبے پر سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جلد آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) منعقد کی جائے گی جس میں پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ ساتھ پارلیمان سے باہر موجود سیاسی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اے پی سی کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے اور بلوچستان کے سیاسی مسائل کے حل کے لیے وسیع تر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہے تاکہ صوبے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔

مزید پڑھیے: دہشتگرد عناصر کو کسی صورت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا : سرفراز بگٹی

ملاقات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والے پاک فوج، ایف سی اور پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور مشکلات کو سمجھتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے زیارت سانحے کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے کردار کو سراہا جبکہ اس عمل میں تعاون کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بلوچستان کے سیاسی مسائل کا دیرپا حل مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ سیاسی ڈائیلاگ پر یقین رکھتی ہے، چاہے متعلقہ جماعتیں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں۔

مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاک بھارت پائیدار امن ممکن نہیں، بلاول بھٹو زرداری

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پیپلزپارٹی کا مؤقف پہلے دن سے واضح ہے اور پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑی ہے۔

بلوچستان میں سیاسی اتفاق رائے کی کوشش

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بلوچستان ایک جانب دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب حالیہ زیارت سانحے کے بعد صوبے میں سیاسی اور عوامی بے چینی بھی پائی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے اور اس میں پارلیمان سے باہر موجود جماعتوں کو بھی شامل کرنے کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت صرف انتظامی اور سیکیورٹی اقدامات تک محدود رہنے کے بجائے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو اہم قرار دینا بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پیپلزپارٹی طویل عرصے سے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ سیاسی مکالمے کو بھی ضروری قرار دیتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستانی عوام دہشتگردی کے خلاف، خطے میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ہوگا، بلاول بھٹو

تاہم اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام اہم سیاسی اور قوم پرست جماعتیں شریک ہوتی ہیں یا نہیں اور اگر یہ کانفرنس منعقد ہوتی ہے تو کیا اس کے نتیجے میں بلوچستان کے دیرینہ سیاسی اور سیکیورٹی مسائل کے حل کے لیے کوئی قابل عمل لائحہ عمل سامنے آتا ہے یا یہ اجلاس بھی ماضی کی کانفرنسوں کی طرح صرف بیانات تک محدود رہ جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp