غزہ کی جنگ سے متاثرہ خیمہ بستیوں میں بنیادی ضروریات کی شدید قلت نے روزمرہ استعمال کی معمولی اشیا کو بھی قیمتی بنا دیا ہے۔ جنوبی غزہ میں بے گھر خاندانوں کے لیے ایک عام سا سگریٹ لائٹر کھانا پکانے کے لیے آگ جلانے کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے، کیونکہ ایندھن اور گیس کی کمی کے باعث لوگ گتے، پلاسٹک اور لکڑی کے ٹکڑے جلا کر کھانا تیار کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خان یونس کے خیمہ کیمپوں میں بے گھر افراد کے لیے لائٹر اتنا اہم ہوگیا ہے کہ اسے پانی، خوراک اور ایندھن جیسی بنیادی ضروریات میں شمار کیا جارہا ہے۔ 4 بچوں کی ماں نسرین ابو سعد نے بتایا کہ خیمے میں لائٹر کے بغیر گزارا ممکن نہیں، کیونکہ گیس دستیاب نہ ہونے کے باعث ہر وقت آگ جلانے کی ضرورت پڑتی ہے۔
جنگ سے پہلے 3 لائٹر ایک شیکل میں مل جاتے تھے، لیکن اب ایک لائٹر کی قیمت 100 شیکل تک پہنچ گئی ہے، جو کئی خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ اسی وجہ سے ایک ہی لائٹر کئی خاندانوں کے درمیان استعمال ہوتا ہے اور مسلسل استعمال کے باعث جلد خراب ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 93 فلسطینی شہید
لائٹروں کی کمی نے غزہ میں ایک نیا چھوٹا کاروبار بھی پیدا کردیا ہے۔ بے گھر فلسطینی حسن ابو لطیف خراب پلاسٹک لائٹرز کی مرمت کر کے اپنا روزگار چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لائٹر مرمت کرنا کوئی باقاعدہ پیشہ نہیں تھا، لیکن لوگوں کی ضرورت اور روزگار کی مجبوری نے انہیں یہ کام شروع کرنے پر مجبور کیا۔
حسن ابو لطیف کے مطابق مہنگائی اور قلت کے باعث لوگ نئے لائٹر خریدنے کے بجائے پرانے لائٹر مرمت کروانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے پاس خراب لائٹروں کے ڈبے اور پرزے موجود ہیں جنہیں دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں بھوک کا بحران بدستور سنگین، جنگ بندی کے باوجود انسانی المیہ برقرار
رپورٹ کے مطابق غزہ کی جنگ نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جہاں اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق بے روزگاری 80 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ بیشتر معاشی سرگرمیاں متاثر اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔
غزہ میں روایتی تنور پر روٹی بنا کر روزی کمانے والی 6 بچوں کی ماں افتخار الکفرنہ کا کہنا ہے کہ لائٹر نہ ہوتو کام رک جاتا ہے اور کئی گھنٹے تک وہ روزگار سے محروم رہتی ہیں۔ ان کے مطابق ایک چھوٹی سی چیز اب ان کے خاندان کی آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔













