وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور امن کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش ہے، تاہم پاکستان دہشتگردی کے اس چیلنج کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کی ترقی اور خوشحالی ملک کے روشن مستقبل سے جڑی ہوئی ہے، اسی لیے وفاقی حکومت صوبے کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، توانائی، زراعت اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچ اور پشتون عوام نے قیامِ پاکستان کے وقت تاریخی کردار ادا کیا اور اپنی قیادت کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کرکے قومی وحدت کو مضبوط بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی محب وطن قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی اور صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور شریک رہا۔
یہ بھی پڑھیں:ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں، کیا بلوچستان میں تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے؟
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا لیکن رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں طویل فاصلے اور دشوار جغرافیہ ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں تمام صوبوں نے اتفاق کیا، جبکہ پنجاب نے رضاکارانہ طور پر سالانہ 11 ارب روپے اضافی دینے کا فیصلہ کیا اور 2010 سے اب تک تقریباً 150 ارب روپے بلوچستان کے لیے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ وفاقی یکجہتی اور بھائی چارے کا تقاضا تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ میاں نواز شریف کے ادوارِ حکومت میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے، جبکہ موجودہ حکومت نے بھی صوبے کے جائز مطالبات پورے کرنے کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے تقریباً 75 ارب روپے کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس میں وفاق نے تقریباً 50 ارب روپے فراہم کیے، تاکہ کسانوں کو بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے چمن تک ایم-25 شاہراہ، جسے ماضی میں مسلسل حادثات کے باعث ’خونی سڑک‘ کہا جاتا تھا، اسے جدید ایکسپریس وے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 300 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ بھی ممکن ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ڈیڑھ سے 2 برس میں یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ شاہراہ ترقی، تجارت اور امن کی علامت بن جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:دہشتگردی کی کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی، وزیراعلیٰ بلوچستان کا 4 ہزار طلبہ سے براہِ راست مکالمہ
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں۔ اگر صرف ایک یا 2 صوبے ترقی کریں اور دیگر پیچھے رہ جائیں تو اسے پاکستان کی ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے ہر حصے کو مساوی ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
وزیراعظم نے بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس عبدالقادر اور ان کے ساتھی اہلکار سمیت دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قوم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جن میں شہری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور افواجِ پاکستان کے افسران و جوان شامل ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2017 اور 2018 تک پاکستان دہشتگردی پر بڑی حد تک قابو پا چکا تھا، لیکن بعد ازاں دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو دہشتگرد عناصر کو مالی اور دیگر معاونت فراہم کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:قلات ڈویژن کے خاتمے کیخلاف نواب اسلم رئیسانی نے بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا
وزیراعظم نے افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بارہا افغان عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگرد تنظیموں کے استعمال سے روکے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان دو ہزار کلومیٹر سے زائد مشترکہ سرحد موجود ہے اور خطے میں امن دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ تاہم، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس حوالے سے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان نے دفاعی اور سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن سے دنیا میں ملک کا وقار بلند ہوا ہے، مگر پاکستان کے دشمن ان کامیابیوں کو برداشت نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھائے تاکہ پاکستان دنیا میں اپنا حقیقی مقام حاصل کر سکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے علامہ اقبال کا شعر پڑھتے ہوئے قومی اتحاد، مشترکہ جدوجہد اور انتھک محنت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ چاروں صوبوں اور 24 کروڑ عوام کی مشترکہ کوششوں سے ہی پاکستان ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست بن سکتا ہے۔
شفاف طرزِ حکمرانی ہی معاشی استحکام کی بنیاد ہے
تقریر کے بعد طلبہ کے سوال کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ شفاف طرزِ حکمرانی ہی کرپشن، ملی بھگت اور ٹیکس چوری کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سرکاری آمدن خزانے میں آنے کے بجائے ضائع ہوتی ہے تو غربت، معاشی مشکلات اور قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ٹیم ورک کے ذریعے شفافیت کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں گزشتہ ایک سال کے دوران پہلے سے نافذ ٹیکسوں، خصوصاً سیلز ٹیکس، کی چوری روک کر 800 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے، جو پاکستان کی تاریخ میں ایک نمایاں کامیابی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے، شہباز شریف کی محمد بن سلمان کو یقین دہانی
انہوں نے کہا کہ ترقی کا کوئی جادوئی نسخہ نہیں، بلکہ محنت، دیانت اور امانت ہی قوموں کو آگے لے جاتی ہے۔ جاپان اور جرمنی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے تباہی کے بعد محنت کے بل بوتے پر دوبارہ ترقی کی۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ وفاق کی طرح صوبوں میں بھی شفاف طرزِ حکمرانی کو فروغ دے کر ملک بھر میں بہتر نتائج حاصل کیے جائیں گے۔














