کانگو میں ایبولا بے قابو، ہلاکتیں 1,300 سے تجاوز، وائرس جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے لگا

اتوار 26 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

 

جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا کی تازہ وبا تیزی سے سنگین صورت اختیار کر گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1,354 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ صرف 5 روز میں اموات میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ دنیا کی بدترین وباؤں میں سے ایک بن سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کانگو کی حکومت کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز، جن میں اموات بھی شامل ہیں، بڑھ کر 3,075 ہو گئے ہیں، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اب تک ریکارڈ کی جانے والی سب سے تیزی سے پھیلنے والی ایبولا وبا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس بار پھیلنے والا وائرس ایبولا کی نایاب قسم ’بنڈی بوجیو‘ ہے، جس کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں۔ افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے قیام میں کردار ادا کرنے والے ماہرِ صحت عبدالسلامی نصیدی نے کہا کہ مؤثر ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث وائرس انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ادھر آکسفورڈ یونیورسٹی کے آکسفورڈ ویکسین گروپ نے اعلان کیا ہے کہ تجرباتی ویکسین کا پہلا ٹیکا ایک رضاکار کو لگا دیا گیا ہے، جسے وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکر جنرل ٹیڈروس ادہانوم گیبریئس نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ افراد کی حقیقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے دوگنا بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ مشرقی کانگو میں جاری بدامنی کے باعث امدادی ٹیمیں تمام متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف طبی وسائل کافی نہیں، بلکہ متاثرہ علاقوں میں جنگ بندی اور محفوظ رسائی بھی ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایبولا کے خلاف امید کی نئی کرن، 50 رضاکاروں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز

دوسری جانب ایبولا سے نمٹنے والے طبی عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مئی میں وبا کے آغاز کے بعد اب تک 100 سے زائد طبی کارکن وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 35 جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ صوبہ ایتوری کے کئی اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے تنخواہوں اور حفاظتی سامان کی کمی کے خلاف ہڑتال بھی کر رکھی ہے، جس سے مریضوں کے علاج اور وبا پر قابو پانے کی کوششیں مزید متاثر ہو رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو کانگو کی یہ وبا تاریخ کی بدترین ایبولا وباؤں میں شامل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے اور عالمی صحت کے لیے سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چیف الیکشن کمشنر کی میرپور ڈویژن کے عوام سے نتخابات میں بھرپور شرکت کی اپیل

تربت میں جدید ایف سی اسپتال کا افتتاح، مقامی آبادی بھی علاج کی سہولت سے مستفید ہوگی: محسن نقوی

جنوبی بحیرۂ چین میں ویتنامی جہاز ڈوب گیا، 37 افراد کو بچا لیا گیا، سرچ آپریشن جاری

روشن ساتھی ستاروں کی چمک میں چھپے 4 سفید بونے ستاروں کا انکشاف

امریکا کے فضائی حملوں میں وقفہ، ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی مزید سخت، تنازع بحیرۂ احمر اور بحیرۂ کیسپین تک پھیل گیا

ویڈیو

تربت میں جدید ایف سی اسپتال کا افتتاح، مقامی آبادی بھی علاج کی سہولت سے مستفید ہوگی: محسن نقوی

روشن ساتھی ستاروں کی چمک میں چھپے 4 سفید بونے ستاروں کا انکشاف

بدخشاں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی، فریڈم فرنٹ کا طالبان کے 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں