جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا کی تازہ وبا تیزی سے سنگین صورت اختیار کر گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1,354 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ صرف 5 روز میں اموات میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ دنیا کی بدترین وباؤں میں سے ایک بن سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کانگو کی حکومت کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز، جن میں اموات بھی شامل ہیں، بڑھ کر 3,075 ہو گئے ہیں، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اب تک ریکارڈ کی جانے والی سب سے تیزی سے پھیلنے والی ایبولا وبا ہے۔
It took 67 days for this Ebola outbreak to cross the 1,000-death milestone. The West Africa epidemic, declared on March 23, 2014, took 142 days to reach the same toll, twice as long – Ebola deaths pass 1,000 in the DRC, faster than any previous outbreakhttps://t.co/sKSwluTqwA
— David Walsh (@DavidWSWSarts) July 25, 2026
رپورٹس کے مطابق اس بار پھیلنے والا وائرس ایبولا کی نایاب قسم ’بنڈی بوجیو‘ ہے، جس کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں۔ افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے قیام میں کردار ادا کرنے والے ماہرِ صحت عبدالسلامی نصیدی نے کہا کہ مؤثر ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث وائرس انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ادھر آکسفورڈ یونیورسٹی کے آکسفورڈ ویکسین گروپ نے اعلان کیا ہے کہ تجرباتی ویکسین کا پہلا ٹیکا ایک رضاکار کو لگا دیا گیا ہے، جسے وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکر جنرل ٹیڈروس ادہانوم گیبریئس نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ افراد کی حقیقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے دوگنا بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ مشرقی کانگو میں جاری بدامنی کے باعث امدادی ٹیمیں تمام متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف طبی وسائل کافی نہیں، بلکہ متاثرہ علاقوں میں جنگ بندی اور محفوظ رسائی بھی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایبولا کے خلاف امید کی نئی کرن، 50 رضاکاروں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز
دوسری جانب ایبولا سے نمٹنے والے طبی عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مئی میں وبا کے آغاز کے بعد اب تک 100 سے زائد طبی کارکن وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 35 جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ صوبہ ایتوری کے کئی اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے تنخواہوں اور حفاظتی سامان کی کمی کے خلاف ہڑتال بھی کر رکھی ہے، جس سے مریضوں کے علاج اور وبا پر قابو پانے کی کوششیں مزید متاثر ہو رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو کانگو کی یہ وبا تاریخ کی بدترین ایبولا وباؤں میں شامل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے اور عالمی صحت کے لیے سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔











