ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بڑے سائبر حملے، بجلی کے گرڈ کی خرابی یا بنیادی ڈھانچے کی ناکامی کے باعث کسی ریاست یا وسیع علاقے میں انٹرنیٹ اور بجلی طویل عرصے کے لیے بند ہو جائے تو زیادہ تر امریکی شہری اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
امریکی وفاقی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے 2024 نیشنل ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق 83 فیصد افراد نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کم از کم 3 احتیاطی اقدامات ضرور کیے۔
تاہم صرف 32 فیصد کو یقین ہے کہ یہ تیاریاں کسی بڑی آفت میں ان کی بقا کے لیے کافی ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور اسرائیل کی بمباری جاری، تہران میں زندگی سست روی کا شکار، انٹرنیٹ بھی بند
شناختی چوری اور فراڈ سے تحفظ کے ماہر اور سیکیورٹی تجزیہ کار رابرٹ سیسیلیانو کا کہنا ہے کہ امریکا کا بجلی کا نظام تقریباً 120 سال پرانا ہے اور اس کے کئی حصے فرسودہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ خوراک، پینے کا پانی، بیٹریاں اور متبادل بجلی کے ذرائع پہلے سے ذخیرہ رکھیں۔
ہنگامی تیاریوں سے متعلق ویب سائٹ ٹروپیپر کے بانی اور سابق امریکی فضائیہ کے ایمرجنسی مینیجر شان گولڈ نے کہا کہ لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے ایک سے زیادہ متبادل ذرائع رکھنے چاہییں۔
Experts Warn The Internet Will Go Down In A Big Way — And You'd Better Be Ready | HuffPost Life https://t.co/qpbjLybFiT
— Cathlene Sareli (@cbtuck62) July 25, 2026
ان کے مطابق موبائل ہاٹ اسپاٹ ایک یا 2 دن کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اگر موبائل ٹاورز بھی متاثر ہو جائیں تو اس کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایسی صورتحال میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز جیسے اسٹارلنک، ہیوزنیٹ اور ویاسیٹ متبادل کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہیں، جبکہ اسٹارلنک کا روم پیکج خاص طور پر ہنگامی حالات میں بیک اپ انٹرنیٹ کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: انٹرنیٹ کے بانیوں میں شمار ہونے والے ونٹ سرف گوگل کی ذمہ داریوں سے سبکدوش
ایمرجنسی مینجمنٹ کے شعبے میں 30 سال سے زائد تجربہ رکھنے والے کرس رینالڈز نے خبردار کیا کہ بینکاری کا نظام مکمل طور پر انٹرنیٹ پر انحصار کرتا ہے، اس لیے طویل دورانیے کی بندش کے دوران اے ٹی ایم اور کارڈ مشینیں کام کرنا بند کر سکتی ہیں، جس سے لوگوں کو اپنی رقم تک رسائی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ کچھ نقد رقم چھوٹے نوٹوں کی صورت میں محفوظ اور واٹر پروف جگہ پر رکھیں، جبکہ ایک پری پیڈ کارڈ بھی دیگر بینک اکاؤنٹس سے الگ رکھیں تاکہ ہنگامی حالات میں اسے استعمال کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: جنوبی امریکا پیدل جانے کا خواب لیے روسی شہری ڈرون حملے میں ہلاک
ادھر آفات سے نمٹنے کے لیے سامان فراہم کرنے والی کمپنی اینٹروفی سروائیول کے چیف ایگزیکٹو جیریمی گوکے نے خاندانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ‘پری انٹرنیٹ فیلئر فیملی پلان’ تیار کریں، جس میں ملاقات کی متعین جگہ، ایک دوسرے سے رابطے کا وقت اور مکمل مواصلاتی نظام بند ہونے کی صورت میں سیٹلائٹ کمیونیکیٹر یا دو طرفہ ریڈیو استعمال کرنے والے ایک ذمہ دار فرد کا تعین شامل ہو۔
ان کے مطابق پیشگی منصوبہ بندی کسی بھی بڑے بحران کے دوران خاندانوں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔













