پشاور کے واحد بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم میں سیاسی جلسے کا اعلان، کھیل کے میدان میں سیاست کیوں؟

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پشاور میں واقع صوبے کے واحد بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم میں سیاسی جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اسٹیڈیم کی حال ہی میں اربوں روپے کی لاگت سے ازسرنو تعمیر کی گئی، تاہم یہ تاحال قومی اور بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں کا منتظر ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ 5 اگست کو عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں جلسہ منعقد کیا جائے گا، جس سے پارٹی کی مرکزی قیادت کے علاوہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی خصوصی خطاب کریں گے۔

مزید پڑھیں: عمران خان اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، اپوزیشن کا متفقہ بائیکاٹ، عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع کرنا فوری طور پر بند کیا جائے، ڈاکٹر عباداللہ

ان کا کہنا تھا کہ جلسے میں صوبے بھر سے بڑی تعداد میں کارکن شرکت کریں گے۔

عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم

پشاور کے شاہی باغ کے قریب واقع عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم صوبے کا واحد بین الاقوامی معیار کا کرکٹ اسٹیڈیم ہے، جہاں ماضی میں کئی اہم بین الاقوامی میچز کھیلے جا چکے ہیں۔ اس اسٹیڈیم کا سابقہ نام ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم تھا۔

پی ٹی آئی حکومت نے 2018 میں اس کی تعمیر نو کا آغاز کیا، تاہم فنڈز کی کمی اور دیگر مسائل کے باعث منصوبہ 2 سال میں مکمل ہونے کے بجائے کئی سال تاخیر کا شکار رہا۔ بالآخر گزشتہ سال کے آخر میں منصوبہ مکمل ہوا اور افتتاح کے موقع پر اس کا نام تبدیل کرکے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم رکھ دیا گیا۔

اس موقع پر خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور میں بین الاقوامی کرکٹ اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز کی بحالی کا بھی وعدہ کیا۔

کھیل کے میدان میں سیاسی جلسہ کیوں؟

پی ٹی آئی کی جانب سے صوبے کے واحد بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم میں سیاسی جلسے کے اعلان پر حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔

سیاسی اور کھیلوں کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک معروف کرکٹ اسٹیڈیم میں سیاسی جلسہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کے مطابق کھیل کے میدانوں کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

سینیئر اسپورٹس جرنلسٹ اور تجزیہ کار عمران یوسفزئی کے مطابق، ایک ایسی جماعت جس کے بانی خود عالمی شہرت یافتہ کرکٹر رہے ہوں، اس سے توقع تھی کہ وہ کھیلوں کے فروغ کو ترجیح دے گی، نہ کہ کھیل کے میدان کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرے گی۔

ان کا کہنا تھا، ’میرا خیال ہے کہ اگر عمران خان خود یہاں ہوتے تو شاید نہ اس اسٹیڈیم کا نام تبدیل ہوتا اور نہ یہاں سیاسی سرگرمی منعقد کی جاتی۔‘

عمران یوسفزئی نے کہاکہ سابقہ ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم تاریخی حیثیت رکھتا ہے، جہاں 25 سے زیادہ بین الاقوامی میچز کھیلے جا چکے ہیں اور دنیا کے نامور کرکٹرز یہاں کھیل چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا، ’1996 کے ورلڈ کپ کے میچز بھی یہاں ہوئے تھے، جبکہ 2006 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری بین الاقوامی میچ بھی اسی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا۔ اگر اس اسٹیڈیم کو سیاست کے لیے ہی استعمال کرنا تھا تو پھر اس پر اربوں روپے کیوں خرچ کیے گئے؟‘

انہوں نے مزید کہاکہ پشاور میں جلسوں کے لیے کھلی جگہوں کی کوئی کمی نہیں، اس لیے سیاسی سرگرمی کے لیے بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم کا انتخاب ایک غلط روایت قائم کرےگا۔

ان کے مطابق پشاور کے شائقین کرکٹ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کی بحالی کے منتظر ہیں، مگر صوبائی حکومت کھیلوں کے بجائے سیاست کو ترجیح دیتی نظر آ رہی ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی عارف حیات کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کھیلوں کے فروغ کے دعوے کرتی ہے، مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔

انہوں نے کہا، ’کھیلوں کے میدان کو کسی بھی صورت سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ آج پی ٹی آئی نے یہاں جلسہ کیا ہے، کل اپوزیشن بھی اسی بنیاد پر مطالبہ کرےگی، اور یوں یہ ایک روایت بن جائے گی۔‘

عارف حیات کے مطابق صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ پشاور میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ دعوؤں کے باوجود اس حوالے سے عملی پیشرفت نظر نہیں آ رہی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے قبل اسی اسٹیڈیم میں ’عوامی اسمبلی‘ کے نام سے خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس بھی منعقد کیا گیا تھا۔

ان کے بقول، ’عوامی اسمبلی ہو یا سیاسی جلسہ، ان کا کھیل کے میدان سے کیا تعلق ہے؟ اسٹیڈیم کو صرف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

خیبرپختونخوا حکومت کیا کہتی ہے؟

خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان اور وزیر اطلاعات شفیع جان نے اسٹیڈیم میں سیاسی جلسے کے انعقاد کا دفاع کیا۔

مزید پڑھیں: ’عمران خان اسٹیڈیم‘ نام رکھنے کے خلاف کیس، حکومت نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگ لی

جب ان سے پوچھا گیا کہ کھیل کے میدان میں سیاسی جلسہ منعقد کرنے کی کیا منطق ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ اسٹیڈیم صوبائی حکومت کی ملکیت ہے، اس لیے حکومت وہاں جلسہ کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’جلسے کے دوران اسٹیڈیم کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا، ہم پہلے بھی وہاں عوامی اسمبلی کا انعقاد کر چکے ہیں، اب جلسہ کررہے ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تربت: فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

امن کا پیغام ایک بار پھر ٹیکسلا سے بلند ہونا چاہیے، جاپانی راہب جونسی تیراساوا

کالعدم بی ایل ایف نے آوران میں خاتون کو اغوا کے بعد قتل کردیا، روبینہ کے والد کا انصاف کا مطالبہ

لاہور سمیت کئی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سیکیورٹی صورتحال کشیدہ

ویڈیو

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن میں پولنگ جاری، سخت سیکیورٹی انتظامات

پہلا ٹیسٹ: پہلی انگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں