افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جہاں مختلف اضلاع میں جھڑپوں کے بعد سیکیورٹی صورتحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔ یفتل اور زیباک اضلاع میں ہونے والے حالیہ واقعات نے طالبان کی جانب سے ملک پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مزید پڑھیں:بدخشاں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی، فریڈم فرنٹ کا طالبان کے 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ
طالبان مخالف مسلح گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے کابل سے بدخشان جانے والے طالبان کے ایک فوجی قافلے کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 7 طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 6 سے زائد زخمی ہوئے۔
افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں تیزی،مختلف اضلاع میں جھڑپوں کے بعد سیکیورٹی صورتحال کشیدہ۔ یفتل اور زیباک اضلاع میں ہونے والے حالیہ واقعات نے طالبان کی جانب سے ملک پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔@KulAalam @HussainAhmedCh8 pic.twitter.com/tWEuRPbRyv
— Media Talk (@mediatalk922) July 27, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری تنظیم کے بیان کے مطابق، اس کے جنگجوؤں نے کابل سے شمالی سالنگ تک طالبان کے فوجی قافلے کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ قافلہ بدخشان میں تعیناتی کے لیے اضافی نفری اور فوجی سازوسامان منتقل کر رہا تھا۔
افغانستان فریڈم فرنٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ ہفتے کے روز ضلع زیباک میں اس کے جنگجوؤں نے طالبان کے 2 فوجی ڈرون مار گرائے، جبکہ جمعہ کے روز اسی ضلع میں طالبان کے ہیلی کاپٹروں کو لینڈنگ کیے بغیر واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔
معروف افغان صحافی بلال سروری نے کہا ہے کہ فریڈم فرنٹ کی مسلسل کارروائیاں اور ڈرون حملے تنظیم کی بڑھتی ہوئی جنگی صلاحیت، مؤثر منصوبہ بندی، انٹیلی جنس، لاجسٹکس اور تیاری کی عکاسی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:بدخشاں میں طالبان مخالف جنگجوؤں کا حملہ، طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ
دوسری جانب سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت ایک جائز حکومت نہیں، اور اس کے خلاف سیاسی و عسکری مزاحمت مزید منظم ہوگی، جو بالآخر طالبان کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔














