بدخشاں میں طالبان مخالف جنگجوؤں کا حملہ، طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ

ہفتہ 25 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مسلح جنگجوؤں اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپوں کے دوران ایک طالبان کمانڈر کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق لڑائی جمعرات کی شام ضلع زیبک کے سرحدی علاقے میں شروع ہوئی اور آخری اطلاعات تک جاری تھی، جبکہ طالبان نے اس حوالے سے کوئی سرکاری مؤقف جاری نہیں کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جھڑپیں ضلع زیبک کے علاقے توپ خانہ میں ہوئیں، جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا ٹی ٹی پی سے متعلق رویہ ایک بار پھر سوالات کی زد میں، مائیکل کوگلمین بول پڑے

طالبان مخالف جنگجوؤں نے طالبان کی متعدد چوکیوں پر حملہ کیا، جس کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ لڑائی ماضی کی محدود جھڑپوں سے مختلف ہے کیونکہ اس بار کئی محاذوں پر براہ راست مقابلہ جاری ہے۔

مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں میں فرید اللہ وحدت نامی طالبان کمانڈر مارا گیا، جو بدخشاں میں طالبان کی ایک سرحدی چوکی کا انچارج تھا۔

ذرائع کے مطابق اس کی لاش کی تصویر بھی سامنے آئی ہے، تاہم اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

طالبان حکام نے نہ تو کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی جاری جھڑپوں پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، تاہم ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی حتمی تعداد واضح نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیں: 75 فیصد افغان طالبان سے غیر مطمئن، کرپشن اور اقربا پروری پر اپنے ہی ارکان کی تنقید

دوسری جانب طالبان مخالف جنگجوؤں کے نقصانات سے متعلق بھی کوئی مستند معلومات سامنے نہیں آئیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ کرنے والا گروہ کون سا تھا، تاہم مقامی افراد کے مطابق ضلع زیبک کے پہاڑی علاقوں میں مختلف طالبان مخالف مسلح گروہ موجود ہیں، جو وقتاً فوقتاً طالبان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جھڑپوں کے بعد دونوں فریقوں نے اپنی پوزیشنیں مضبوط بنانے کے لیے مزید نفری بھی طلب کر لی ہے، جس سے علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کو شدید مزاحمت کا سامنا، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے حملوں کی ویڈیو جاری کردی

یہ تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چند روز قبل نو قائم شدہ طالبان مخالف تنظیم سپاہیانِ میہن (پیٹریاٹک سولجرز فرنٹ) نے بدخشاں کے ضلع یافتلِ سفلی کے ضلعی مرکز پر چند گھنٹوں کے لیے قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔

تنظیم نے 17 جولائی کو ضلعی گورنر کے دفتر، پولیس ہیڈکوارٹر اور طالبان کے انٹیلیجنس دفتر پر عارضی کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی عمارت پر اپنا پرچم بھی لہرایا تھا، تاہم طالبان کی جوابی کارروائی کے بعد وہ علاقے سے واپس ہٹ گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بدخشاں میں طالبان مخالف سرگرمیوں میں اضافہ شمالی افغانستان میں مزاحمتی گروہوں کی بڑھتی ہوئی فعالیت کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فرانس اور اسپین میں خوفناک جنگلاتی آگ، ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور

چین کا فلپائن سے متنازع سمندری علاقے میں اشتعال انگیزی فوری بند کرنے کا مطالبہ

چیف الیکشن کمشنر کی میرپور ڈویژن کے عوام سے نتخابات میں بھرپور شرکت کی اپیل

تربت میں جدید ایف سی اسپتال کا افتتاح، مقامی آبادی بھی علاج کی سہولت سے مستفید ہوگی: محسن نقوی

جنوبی بحیرۂ چین میں ویتنامی جہاز ڈوب گیا، 37 افراد کو بچا لیا گیا، سرچ آپریشن جاری

ویڈیو

تربت میں جدید ایف سی اسپتال کا افتتاح، مقامی آبادی بھی علاج کی سہولت سے مستفید ہوگی: محسن نقوی

روشن ساتھی ستاروں کی چمک میں چھپے 4 سفید بونے ستاروں کا انکشاف

بدخشاں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی، فریڈم فرنٹ کا طالبان کے 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں