افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مسلح جنگجوؤں اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپوں کے دوران ایک طالبان کمانڈر کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق لڑائی جمعرات کی شام ضلع زیبک کے سرحدی علاقے میں شروع ہوئی اور آخری اطلاعات تک جاری تھی، جبکہ طالبان نے اس حوالے سے کوئی سرکاری مؤقف جاری نہیں کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جھڑپیں ضلع زیبک کے علاقے توپ خانہ میں ہوئیں، جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا ٹی ٹی پی سے متعلق رویہ ایک بار پھر سوالات کی زد میں، مائیکل کوگلمین بول پڑے
طالبان مخالف جنگجوؤں نے طالبان کی متعدد چوکیوں پر حملہ کیا، جس کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ لڑائی ماضی کی محدود جھڑپوں سے مختلف ہے کیونکہ اس بار کئی محاذوں پر براہ راست مقابلہ جاری ہے۔
مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں میں فرید اللہ وحدت نامی طالبان کمانڈر مارا گیا، جو بدخشاں میں طالبان کی ایک سرحدی چوکی کا انچارج تھا۔
Fighters from the Afghanistan Freedom Front (AFF) launched a rocket attack targeting Taliban reinforcement helicopters in Afghanistan's Badakhshan province, sources said. While the helicopters were not hit, the attack reportedly disrupted the deployment of fresh Taliban forces to… pic.twitter.com/14yTicJ2l1
— Sajjad Tarakzai (@SajjadTarakzai) July 25, 2026
ذرائع کے مطابق اس کی لاش کی تصویر بھی سامنے آئی ہے، تاہم اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
طالبان حکام نے نہ تو کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی جاری جھڑپوں پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، تاہم ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی حتمی تعداد واضح نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: 75 فیصد افغان طالبان سے غیر مطمئن، کرپشن اور اقربا پروری پر اپنے ہی ارکان کی تنقید
دوسری جانب طالبان مخالف جنگجوؤں کے نقصانات سے متعلق بھی کوئی مستند معلومات سامنے نہیں آئیں۔
ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ کرنے والا گروہ کون سا تھا، تاہم مقامی افراد کے مطابق ضلع زیبک کے پہاڑی علاقوں میں مختلف طالبان مخالف مسلح گروہ موجود ہیں، جو وقتاً فوقتاً طالبان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جھڑپوں کے بعد دونوں فریقوں نے اپنی پوزیشنیں مضبوط بنانے کے لیے مزید نفری بھی طلب کر لی ہے، جس سے علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان کو شدید مزاحمت کا سامنا، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے حملوں کی ویڈیو جاری کردی
یہ تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چند روز قبل نو قائم شدہ طالبان مخالف تنظیم سپاہیانِ میہن (پیٹریاٹک سولجرز فرنٹ) نے بدخشاں کے ضلع یافتلِ سفلی کے ضلعی مرکز پر چند گھنٹوں کے لیے قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔
تنظیم نے 17 جولائی کو ضلعی گورنر کے دفتر، پولیس ہیڈکوارٹر اور طالبان کے انٹیلیجنس دفتر پر عارضی کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی عمارت پر اپنا پرچم بھی لہرایا تھا، تاہم طالبان کی جوابی کارروائی کے بعد وہ علاقے سے واپس ہٹ گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بدخشاں میں طالبان مخالف سرگرمیوں میں اضافہ شمالی افغانستان میں مزاحمتی گروہوں کی بڑھتی ہوئی فعالیت کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔













