بھارت میں لاکھوں نوجوانوں کی احتجاجی تحریک کے دباؤ کے نتیجے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے قریبی ساتھی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ قبول کرنا پڑ گیا۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے سیاسی تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مودی حکومت کو اتنے بڑے عوامی دباؤ کے سامنے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
مودی نے جمعہ کی شب انسٹاگرام پر نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے، ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد کا نام لیے بغیر ان کی ’تعمیری تجاویز‘ پر شکریہ ادا کیا اور یہ تاثر دیا کہ احتجاج سے حکومت کی پوزیشن متاثر نہیں ہوگی۔ تاہم 24 گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ انہیں اپنے وفادار وزیر دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ منظور کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے بھارتی وزیرِ تعلیم کی برطرفی ہندوتوا تعلیمی ایجنڈے کے لیے بڑا دھچکا قرار
احتجاجی تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک اہم قومی امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے باعث تقریباً 20 لاکھ طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔ اس واقعے کو متعدد نوجوانوں کی خودکشیوں سے بھی جوڑا گیا، جس کے بعد انصاف اور احتساب کے مطالبے پر نوجوانوں نے کاکروچ جنتا پارٹی (Cockroach Janta Party – CJP) کے نام سے ایک غیر روایتی احتجاجی تحریک شروع کر دی۔
ابتدا میں تحریک کا بنیادی مطالبہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا، لیکن چند ہی دنوں میں احتجاج حکومت کی شفافیت، احتساب اور جمہوری آزادیوں کے وسیع تر مطالبات میں تبدیل ہو گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مودی نے اپنے سوشل میڈیا خطاب میں پردھان کے استعفے یا ان کے کردار کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
ہفتے کی صبح نئی دہلی کے تاریخی جنتر منتر پر ریکارڈ تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے، جبکہ احتجاج کا دائرہ تیزی سے دیگر شہروں، حتیٰ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر اقتدار ریاستوں تک پھیل گیا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں نوجوانوں کا غصہ، مودی کی سیاسی برتری کو نیا چیلنج
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے سوشل میڈیا پر بھی بی جے پی کی برسوں سے قائم برتری کو شدید دھچکا پہنچایا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بی جے پی اپنی منظم آئی ٹی ٹیم کے ذریعے سوشل میڈیا پر حکومتی بیانیہ مضبوط بنانے اور ناقدین کے خلاف مؤثر مہم چلانے کے لیے معروف رہی ہے، لیکن اس مرتبہ لاکھوں نوجوانوں کی تخلیق کردہ ویڈیوز، میمز اور طنزیہ مواد نے حکومتی بیانیے کو پس منظر میں دھکیل دیا۔
مودی کی جانب سے نوجوانوں تک براہِ راست رسائی کی کوششیں بھی الٹا مذاق اور طنز کا نشانہ بن گئیں، جبکہ انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر حکومت مخالف مواد غیر معمولی تیزی سے وائرل ہوتا رہا۔
دوسری جانب بھارتی ٹی وی نیوز چینلز، جنہیں اپوزیشن اور ناقدین گزشتہ کئی برسوں سے حکومت کے قریب سمجھتے ہیں، ابتدا میں احتجاج کو نظر انداز کرتے رہے۔ بعد ازاں جب انہوں نے اس کی کوریج کی تو مظاہرین پر بیرونی قوتوں اور پاکستانی دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی کا الزام عائد کیا گیا۔ تاہم احتجاج کرنے والوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے میڈیا پر جانبداری کے الزامات عائد کیے۔
براؤن یونیورسٹی کے پروفیسر اشوتوش ورشنے کے مطابق احتجاج کرنے والوں نے آن لائن بیانیے پر مکمل غلبہ حاصل کر لیا، جبکہ حکومت نواز میڈیا کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ان کے بقول عوامی غصہ اس قدر شدید تھا کہ حکومت کے پاس دھرمیندر پردھان کو ہٹانے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک وزیر کی رخصتی نہیں بلکہ گزشتہ 12 برسوں میں پہلی مرتبہ مودی حکومت اپنے سیاسی بیانیے پر کنٹرول برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق خوف کی وہ فضا، جسے حکومت کی طاقت تصور کیا جاتا تھا، اب نمایاں طور پر کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
سیاسی تجزیہ کار پرتاپ بھانو مہتا کا کہنا ہے کہ دھرمیندر پردھان مودی کے انتہائی وفادار ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور پارٹی کی پالیسیوں پر مکمل عمل درآمد کرتے رہے ہیں۔ ان کے استعفے سے کابینہ کے دیگر ارکان میں بھی یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ مشکل حالات میں حکومت ان کی پشت پر کھڑی نہیں رہے گی، جس سے داخلی سیاسی چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بی جے پی حالیہ ریاستی انتخابات میں کامیابیوں کے بعد دوبارہ مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی تھی، خصوصاً مغربی بنگال میں پہلی مرتبہ حکومت بنانے کے بعد پارٹی کا اعتماد بلند تھا۔ اس سے قبل 2024 کے عام انتخابات میں بی جے پی واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی تھی اور اسے اتحادی جماعتوں کے تعاون سے حکومت تشکیل دینا پڑی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک نے نہ صرف نوجوانوں کو متحرک کیا بلکہ اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً کانگریس، کو بھی نئی سیاسی توانائی فراہم کی۔ کانگریس نے ملک گیر احتجاج منظم کیے، پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر کی، جبکہ پارٹی رہنما راہول گاندھی کو طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے دوران مودی کی رہائش گاہ کے باہر پولیس نے حراست میں لے لیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے دبائے جانے والے اختلافی سیاسی رجحانات ایک بار پھر منظم شکل اختیار کر رہے ہیں، جس سے حکومت اور خصوصاً وزیر اعظم مودی کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت عوامی احتساب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے کلاس روم سے سڑک تک، طلبہ نے مودی سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا
بھارتی سیاست میں اس تحریک کا اگلا بڑا امتحان آئندہ سال ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات ہوں گے، جنہیں بی جے پی کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اگر نوجوانوں کی یہ تحریک انتخابی سیاست میں بھی مؤثر ثابت ہوئی تو 2029 کے عام انتخابات سے قبل بھارتی سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔
تحریک کے ترجمان سورَو داس کے مطابق ان کا مقصد نوجوانوں کو صرف احتجاج تک محدود رکھنا نہیں بلکہ انہیں عملی سیاست میں لانا بھی ہے۔ ان کے بقول، ’ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان سیاسی عمل کا حصہ بنیں، کیونکہ موجودہ سیاست پر ایسے رہنماؤں کا غلبہ ہے جو نئی نسل کے مسائل اور ضروریات کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔’













