امریکی میڈیا کمپنی وارنر برادرز ڈسکوری نے ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ جان بوجھ کر کمپنی کے معاہدہ شدہ ملازمین کو زیادہ بہتر مواقع کا لالچ دے کر ان کے ملازمت کے معاہدے تڑوا رہی ہے۔
لاس اینجلس سپیریئر کورٹ میں 21 جولائی کو دائر کیے گئے مقدمے میں وارنر برادرز ڈسکوری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایمازون نے HBO Max کی سینئر مارکیٹنگ ایگزیکٹو پیا بارلو کو ملازمت دے کر نہ صرف ان کے معاہدے کی خلاف ورزی کرائی بلکہ کمپنی کے معاہداتی حقوق میں بھی مداخلت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایمازون کی اوپن اے آئی میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تیاری
عدالتی دستاویزات کے مطابق پیا بارلو WarnerMedia Services کے ساتھ 31 اکتوبر 2027 تک ملازمت کے معاہدے کی پابند تھیں، تاہم اس کے باوجود Amazon MGM Studios نے انہیں اپنی ہیڈ آف سیریز مارکیٹنگ مقرر کر دیا، جہاں وہ 3 اگست سے ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔
وارنر برادرز ڈسکوری نے اپنے مقدمے میں الزام لگایا ہے کہ ایمازون اپنی پروڈکشن اور مارکیٹنگ ٹیم تیار کرنے کے بجائے حریف کمپنیوں کے معاہدہ شدہ ملازمین کو غیر قانونی طریقے سے اپنی جانب راغب کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ایجنٹس سے کن افراد کی ملازمتوں کو خطرہ نہیں؟ ایمازون ویب سروسز کے سربراہ نے بتا دیا
درخواست میں ایمازون کے رویے کو ’چینی کی دکان میں گھسے ہوئے بے قابو سانڈ‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کمپنی کو اس طرزِ عمل سے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
کمپنی نے عدالت سے مالی ہرجانے کے علاوہ عارضی اور مستقل حکمِ امتناع جاری کرنے کی درخواست بھی کی ہے تاکہ ایمازون کو معاہدے کی مدت مکمل ہونے سے پہلے وارنر برادرز ڈسکوری کے کسی بھی معاہدہ شدہ ملازم کو بھرتی کرنے سے روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمازون کا اپنے 30 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ، تاریخی ڈاؤن سائزنگ کی وجہ کیا بنی؟
دوسری جانب ایمازون کے ترجمان نے مقدمے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا تنازع نہیں۔ اس سے قبل بھی ڈزنی اور یوٹیوب جبکہ نیٹ فلکس اور 20th Century Fox کے درمیان سینئر ملازمین کی بھرتیوں کے معاملے پر قانونی تنازعات سامنے آ چکے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ ہالی ووڈ میں مقررہ مدت کے ملازمت کے معاہدوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے ایک اہم نظیر قائم کر سکتا ہے کیونکہ اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے درمیان تجربہ کار مارکیٹنگ اور پروڈکشن ماہرین کے حصول کے لیے مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔














