کئی روز سے جاری مندی کے بعد پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گیا، جس کے نتیجے میں انڈیکس میں تقریباً 4500 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاروبار کے آغاز پر صبح 9 بج کر 48 منٹ تک بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 4,449.57 پوائنٹس یعنی 2.60 فیصد اضافے کے ساتھ 175,470.77 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
مارکیٹ میں آٹوموبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں کے حصص میں بھرپور خریداری دیکھی گئی۔
او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پاکستان آئل فیلڈز، ماری انرجیز، پاکستان اسٹیٹ آئل، حبکو، اٹک ریفائنری، حبیب بینک لمیٹڈ، مسلم کمرشل بینک اور میزان بینک کے شیئرز بھی سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
PSX Opened Positive 🚀
☀️ KSE 100 opened positive by +4224.75 points this morning. Current index is at 175,245.95 points (9:45 AM) pic.twitter.com/5TEIuwmRVk— Investify Pakistan (@investifypk) July 27, 2026
عارف حبیب لمیٹڈ کی سربراہ برائے ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 سے 5 فیصد کمی مارکیٹ میں تیزی کی بنیادی وجہ ہے۔
ان کے بقول ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری، اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کی توقع اور کمپنیوں کے مالی نتائج کے جاری سیزن نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، انڈیکس مثبت زون میں داخل
اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی پیر کو آئندہ 50 روز کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گی، جبکہ مارکیٹ کی اکثریت شرح سود میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں کر رہی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے ناکہ بندی کے اعلان اور عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی۔

اس دوران کے ایس ای-100 انڈیکس 4,781 پوائنٹس یعنی 2.7 فیصد کمی کے بعد 171,021 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب خلیجی خطے میں کشیدگی میں عارضی کمی کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل 5.2 فیصد کمی کے ساتھ 91.73 ڈالر اور امریکی خام تیل 5.4 فیصد گر کر 84.45 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جس سے عالمی حصص بازاروں میں بھی بہتری کا رجحان دیکھنے میں آیا۔














