صدر آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی کابینہ کے دیگر ارکان کو رواں سال غیر ملکی شخصیات کی جانب سے دیے گئے درجنوں تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے گئے، جن کی تفصیلات حکومت نے جاری کر دی ہیں۔
وزارت اطلاعات نے حال ہی میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران وزیراعظم، نائب وزیراعظم، وفاقی وزرا اور دیگر سرکاری عہدیداروں کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات جاری کیں، جبکہ کابینہ ڈویژن نے بھی اپنی سرکاری ویب سائٹ پر 2002 سے اب تک توشہ خانہ میں جمع کرائے گئے تحائف کا ریکارڈ فراہم کر دیا ہے۔
تاہم تحائف دینے والی غیر ملکی شخصیات کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ کیس 2: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17- 17 سال قید اور جرمانے کی سزا
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ حکومت باقاعدگی سے توشہ خانہ میں جمع کرائے گئے تحائف کی تفصیلات عوام کے لیے جاری کرتی ہے اور تازہ ترین ریکارڈ گزشتہ 3 ماہ پر مشتمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر، وزیراعظم، نائب وزیراعظم، وفاقی وزرا اور سرکاری افسران کو ملنے والے تمام جمع شدہ تحائف کی معلومات پورٹل پر دستیاب ہیں، البتہ تحفہ دینے والی شخصیت کا نام ظاہر نہیں کیا جاتا۔
کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ریکارڈ کے مطابق بعض تحائف کی مالیت کا تعین ابھی زیر عمل ہے۔ ڈویژن کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ یہ معلومات متعلقہ افراد اور اداروں کی جانب سے اس وقت کی پالیسی کے تحت جمع کرائی گئی تفصیلات پر مبنی ہیں، اس لیے کسی ممکنہ غلطی یا کمی بیشی کی ذمہ داری کابینہ ڈویژن پر عائد نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں: توشہ خانہ سے سستی گھڑی لینے کا الزام، مریم نواز نے نجی چینل کے خلاف اہم مقدمہ جیت لیا
ریکارڈ کے مطابق صدر آصف زرداری کو 2 جنوری کو ایک چائے کا سیٹ اور تلوار تحفے میں دی گئی۔ دیگر تحائف میں سنہری صحرائی ماڈل، اونی اوور کوٹ، ویشرون کانسٹنٹن جنیوا کی کلائی گھڑی، آرائشی اشیا، رسمی شمشیر سیٹ، شطرنج بورڈ، آرائشی سرونگ باؤل اور آئل پینٹنگ شامل ہیں۔
خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری کو 20 جنوری کو ایک ایک ہار جبکہ 10 فروری کو زیورات کا ایک ایک سیٹ تحفے میں ملا، خاتون اول کو ایک ’کومس سیٹ‘ بھی پیش کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کو 5 جنوری کو شیلڈ اور یادگاری تحفہ دیا گیا، اس کے علاوہ انہیں پورٹریٹ، متعدد شیلڈز، ٹائی، تصویری فریم، تلواریں، ہار، انگوٹھی اور بالیوں پر مشتمل زیورات کا ڈبہ بھی ملا۔
مزید پڑھیں: توشہ خانہ میں جمع کرائے گئے تحائف کی تفصیلات جاری، کس کو کیا ملا؟
ریکارڈ کے مطابق انہیں رولیکس کی 2 قیمتی گھڑیاں، پیٹک فلپ کی ایک گھڑی، سکے، روایتی لباس، گھڑی کا ماڈل، شوگر باؤل، گاڑی کا ماڈل، مختلف کپ، ماڈلز، قلم اور کف لنکس بھی تحفے میں دیے گئے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو 12 جنوری کو آرائشی شے اور روایتی چینی مہر پیش کی گئی، دیگر تحائف میں میانمار کا روایتی کٹھ پتلی ماڈل، ثقافتی فریم، رولیکس گھڑی، گلدان، تمغہ، چینی چمڑے کی بیلٹ، مصری مجسمہ، قلم اور کف لنکس کا سیٹ شامل ہے۔
وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ کو 12 جنوری کو ازبکستان کے عنوان سے کتاب اور ایک ٹی شرٹ تحفے میں ملی، جبکہ اقتصادی امور کے سیکریٹری ایم ہمایوں کریم کو اعلیٰ معیار کا بال پوائنٹ قلم دیا گیا۔
مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ: توشہ خانہ کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے ایکٹ پر نظرثانی کا فیصلہ، کمیٹی تشکیل
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو بھی رولیکس کی ایک گھڑی موصول ہوئی۔
صدارتی عملے میں صدر کے فوجی سیکریٹری کو رولیکس، چیف سیکیورٹی آفیسر کو آئی ڈبلیو سی اور اے ڈی سی (ایئر) کو اومیگا برانڈ کی کلائی کی گھڑی تحفے میں ملی، جبکہ پرنسپل اسٹاف آفیسر اور صدر کے ترجمان کو بھی ایک ایک کلائی کی گھڑی دی گئی۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کو ایک بڑا سیرامک جار جبکہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کو بلغاری برانڈ کی گھڑی تحفے میں ملی۔
مزید پڑھیں: زرداری، نواز اور گیلانی کی توشہ خانہ کیس ایف آئی اے کو بھجوانے کی استدعا مسترد
نیب کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد کو ایک کلائی کی گھڑی اور انٹرپول کی صد سالہ یادگاری کتاب دی گئی، ڈپٹی چیف آف اسٹیٹ پروٹوکول حفیظ اللہ کو ٹیگ ہیوئر گھڑی ملی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کو رولیکس گھڑی اور ہاتھ سے تیار کردہ چائے کا سیٹ، وزیراعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف علی زیدی کو ٹیگ ہیوئر گھڑی، جبکہ معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کو ازبکستان میں تیار کردہ 24 قیراط سونے کی ملمع کاری والا چائے کا سیٹ تحفے میں دیا گیا۔












