پاکستان پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر اور سینیئر رہنما حسن مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ جب تک مسلم لیگ (ن) کی حکومت برقرار ہے پیپلزپارٹی حکومتی اتحاد کا حصہ رہے گی تاہم عوامی مسائل، مہنگائی اور دیگر اہم معاملات پر پارٹی اپنا مؤقف کھل کر پیش کرتی رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ بخاری کی پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی پر تنقید، سوشل میڈیا الزامات کا جواب دے دیا
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نہ مسلم لیگ (ن) کو معلوم ہے کہ وہ ہماری اتحادی کیوں ہے اور نہ ہی ہمیں پتا ہے کہ ہم اس کے اتحادی کیوں ہیں لیکن بہرحال یہ اتحاد ہے اور رہے گا لیکن اس کے باوجود مہنگائی، عوامی مسائل اور دیگر اہم معاملات پر ہم عوام کی نمائندگی کرتے رہیں گے اور اپنا مؤقف واضح انداز میں پیش کریں گے۔
رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپنی آئینی ذمہ داریاں غیرجانبداری سے ادا کرنی چاہییں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ آزاد کشمیر (انتخابی مہم کے دوران) جا کر بسوں کا تحفہ دیتی ہیں لیکن الیکشن کمیشن اس معاملے پر خاموش رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے ہمارا ایک ہی سوال ہے کہ آپ کس کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے صوبے کا چیف ایگزیکیٹو آزاد کشمیر جا کر ایسے اقدامات کیسے کر سکتا ہے لہٰذا میری رائے میں اعلیٰ عدلیہ کو بھی اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔
مزید پڑھیے: اب معافی آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو مانگنی چاہیے، عظمیٰ بخاری کا حسن مرتضیٰ کے بیان پر ردعمل
حسن مرتضیٰ نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیپلزپارٹی پر کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کے پاس کوئی ثبوت موجود ہیں تو انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جائے یا پھر اس حوالے سے تحقیقات کے لیے بااختیار کمیشن قائم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) دوبارہ سنہ 1980 اور سنہ 1990 کی دہائی کی طرز کی الزام تراشی کی سیاست کرنا چاہتی ہے لیکن اب ایسے ہتھکنڈے کامیاب نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے کبھی مسلم لیگ (ن) کے خلاف سیاسی انتقام کی سیاست نہیں کی، نہ مقدمات قائم کیے اور نہ ہی اپنے دور حکومت میں سیاسی مخالفین کو قید کیا۔
عظمیٰ بخاری کے ماضی کے بیانات کا حوالہ
ایک سوال کے جواب میں حسن مرتضیٰ نے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ پیپلزپارٹی میں تھیں تو نواز شریف پر سنگین الزامات عائد کرتی تھیں۔
مزید پڑھیں: حکومت سے اتحاد وقت کی ضرورت، پیپلزپارٹی نے سیاست پر ریاست کو ترجیح دی: راجا پرویز اشرف
انہوں نے کہا کہ ہم تو اس وقت بھی عظمیٰ بخاری سے کہتے تھے کہ نواز شریف پر اس نوعیت کے الزامات نہ لگائیں لیکن وہ ایسے بیانات دیتی رہتی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج وہ ہمیں بڑوں کا ادب سکھا رہی ہیں حالانکہ پیپلزپارٹی نے کبھی نواز شریف یا شہباز شریف پر اس انداز میں الزامات نہیں لگائے۔













