جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں منگل کی سہ پہر 7.1 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا، جس کے بعد جاپانی محکمہ موسمیات نے سونامی کا الرٹ جاری کر دیا۔
جاپانی محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 27 منٹ پر جزیرے کیوشو میں محسوس کیا گیا۔
زلزلے کی شدت جاپان کے مخصوص شنڈو پیمانے پر بلند ترین درجہ 7 ریکارڈ کی گئی، جو انتہائی شدید زمینی لرزش کی نشاندہی کرتی ہے۔

محکمے نے خبردار کیا کہ زلزلے کے نتیجے میں تقریباً تین فٹ بلند سونامی کی لہریں پیدا ہو سکتی ہیں، جن کے شام 5 بجے تک ساحل سے ٹکرانے کا امکان تھا۔
سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے کے مطابق بعض علاقوں میں اس بلندی کی لہریں ریکارڈ کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ 25 جون کو شمالی جاپان میں بھی 7.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا، تاہم اس میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
A magnitude 7.1 earthquake hit Kumamoto, Japan, causing major damage. Collapsed or heavily damaged buildings were reported near the epicenter. Fires were reported in areas such as Uki.
There were a partial collapse and other issues at an Aeon shopping mall. Roads cracked and… pic.twitter.com/HIn2NWWVqJ— T_CAS videos (@tecas2000) July 28, 2026
جاپان دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں زلزلے سب سے زیادہ آتے ہیں۔
یہ ملک بحرالکاہل کے رِنگ آف فائر کے مغربی کنارے پر واقع چار بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر آباد ہے، جس کے باعث یہاں ہر سال سینکڑوں زلزلے ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔
تقریباً 12 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے اس ملک میں دنیا کے تقریباً 18 فیصد زلزلے آتے ہیں۔

اگرچہ ان میں سے زیادہ تر زلزلے معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں، تاہم ان کی شدت، محل وقوع اور زیرِ زمین گہرائی کے باعث ہونے والا نقصان مختلف ہو سکتا ہے۔
جاپان آج بھی 2011 کے تباہ کن 9.0 شدت کے زیرِ سمندر زلزلے کی یاد سے نہیں نکل سکا، جس کے نتیجے میں آنے والے سونامی نے تقریباً 18 ہزار 500 افراد کو ہلاک یا لاپتا کر دیا تھا، جبکہ فوکوشیما جوہری بجلی گھر بھی شدید متاثر ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان میں دنیا کے سب سے بڑے نیوکلیئر بجلی گھر کی بحالی کا عمل ایک بار پھر روک دیا گیا
رواں سال 20 اپریل کو بھی شمالی جاپان میں 7.7 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس میں کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے اور دارالحکومت ٹوکیو سمیت کئی شہروں میں بلند عمارتیں لرز اٹھیں۔
اس واقعے کے بعد حکام نے 8.0 یا اس سے زیادہ شدت کے ممکنہ زلزلوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر خصوصی انتباہ جاری کیا تھا، جسے ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا۔














