نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں مثبت پیشرفت خوش آئند ہے اور دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
امریکی کانگریسی وفد اور کاروباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے روابط پاکستان اور امریکا تعلقات کی نمایاں خصوصیت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ 2 ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارت اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، جبکہ دونوں ممالک تعلقات کو مزید مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان پارلیمانی روابط کی اہمیت پہلے سے بڑھ گئی ہے اور امریکی کانگریس دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں سہولتکاری کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط رواں سال جون میں ممکن ہوئے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا پاکستان کی سب سے بڑی سنگل کنٹری برآمدی منڈی ہے اور گزشتہ مالی سال دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 9.4 ارب ڈالر رہا، جسے آئندہ 5 برس میں 20 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکی کپاس اور سویابین کے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہے جبکہ امریکی ہائیڈروکاربنز کے لیے بھی ایک اہم منڈی کے طور پر ابھر رہا ہے۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 80 سے زائد امریکی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور متعدد امریکی کمپنیاں ٹیکنالوجی، معدنیات، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے رہی ہیں۔
نائب وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مکالمے، سفارتکاری اور تنازعات کے پرامن حل کی پالیسی پر عمل جاری رکھے گا۔














