ویسٹ انڈیز نے فاسٹ بولر جیڈن سیلز کی شاندار بولنگ کی بدولت پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے کر 2 میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی اوپنرعبداللہ فضل ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر
برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلے گئے میچ کے چوتھے روز 211 رنز کے نسبتاً آسان ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ میزبان ٹیم کی منظم اور عمدہ فاسٹ بولنگ کے سامنے سوکھے پتوں کی طرح بکھر گئی اور کپتان بابر اعظم کی ناقابل شکست نصف سینچری اور آخری نمبر کے بلے باز محمد عباس کی بھرپور مزاحمت کے باوجود قومی ٹیم چائے کے وقفے کے کچھ دیر بعد ہی آل آؤٹ ہوگئی۔
پاکستان نے چائے کے وقفے کے بعد اپنی دوسری اننگز 114 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ پر دوبارہ شروع کی تھی۔ کپتان بابر اعظم 53 اور آخری بلے باز محمد عباس 22 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔
تاہم پاکستان اپنی اننگز میں صرف 6 رنز کا اضافہ کرسکا اور 120 رنز پر ڈھیر ہوگیا۔ چائے کے وقفے کے بعد دوسرے ہی اوور میں جیڈن سیلز نے محمد عباس کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کرکے ویسٹ انڈیز کو فتح دلادی۔
پاکستان کی جانب سے کپتان بابر اعظم نے سب سے زیادہ 107 گیندوں پر ناقابل شکست 58 رنز بنائے جبکہ محمد عباس نے 33 گیندوں پر 23 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی۔ محمد عباس نے ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز میں 5 وکٹیں جبکہ پہلی میں 4 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
مزید پڑھیے: پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا 4 روزہ پریکٹس میچ بے نتیجہ ختم، پہلا ٹیسٹ 25 جولائی سے شروع ہوگا
وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان ڈبل فیگر میں داخل ہونے والے پاکستان کے تیسرے اور آخری بیٹر رہے جنہوں نے 11 رنز بنائے۔ بابر اعظم اور محمد رضوان کے درمیان چوتھی وکٹ کے لیے 21 رنز کی شراکت بھی قائم ہوئی تاہم دیگر کوئی بھی پاکستانی بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکا۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے جیڈن سیلز نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 14.2 اوورز میں صرف 20 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ کیمار روچ اور جسٹن گریوز نے 2،2 کھلاڑی آؤٹ کیے جبکہ شمار جوزف کے حصے میں ایک وکٹ آئی۔
اس فتح کے ساتھ ویسٹ انڈیز نے 2 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل ہوم سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کرلی۔
مزید پڑھیں: عبداللہ فضل انجری کے باعث ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز سے باہر، 2 متبادل کھلاڑیوں کا اعلان
میچ کے فیصلہ کن چوتھے روز ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز 126 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی تھی اور آخری 3 وکٹوں کے نقصان پر مزید 55 رنز جوڑ کر پوری ٹیم 181 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز میں 311 رنز بنائے تھے جبکہ پاکستان کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 282 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی جس کے باعث میزبان ٹیم کو 29 رنز کی برتری حاصل تھی۔
دوسری اننگز کے بعد پاکستان کو سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں فتح کے لیے 211 رنز کا ہدف ملا تھا۔
چوتھے روز جیسن ہولڈر کی جگہ بیٹنگ کرنے والے نچلے نمبروں کے بلے بازوں شمار جوزف اور کیمار روچ نے اپنی شراکت کو 61 رنز تک پہنچا کر پاکستانی بولرز کو کافی دیر تک مشکلات میں ڈالے رکھا۔
پاکستان کو دن کی پہلی کامیابی فاسٹ بولر محمد علی نے دلائی جنہوں نے سست رفتار گیند پر شمار جوزف کو آؤٹ کیا۔ جوزف نے صرف 27 گیندوں پر 38 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں 4 چھکے اور ایک چوکا شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
بعد ازاں کیمار روچ 63 گیندوں پر 18 رنز بنانے کے بعد محمد عباس کی گیند پر شارٹ کور پر موجود کپتان بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔
10ویں نمبر کے بلے باز جومیل واریکن نے بھی 20 گیندوں پر 14 رنز بنا کر پاکستان کی پریشانی میں کچھ اضافہ کیا تاہم انہیں بھی محمد عباس نے بولڈ کردیا۔
West Indies win the First Test Match by 90 runs pic.twitter.com/zCOBlWba38
— Danish (@PctDanish) July 28, 2026
محمد عباس نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 15.5 اوورز میں 22 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا بھرپور ساتھ محمد علی اور خرم شہزاد نے دیا جنہوں نے 2،2 کھلاڑی آؤٹ کیے جبکہ عامر جمال نے ایک وکٹ اپنے نام کی۔
قبل ازیں ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز میں 311 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم 282 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان کی جانب سے شان مسعود نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 109 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ امام الحق 63 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ تاہم درمیانی اور نچلے درجے کی بیٹنگ ناکام رہی اور پاکستان آخری 6 وکٹیں صرف 38 رنز کے اضافے سے گنوا بیٹھا۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے جسٹن گریوز نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 27 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں جبکہ شمر جوزف نے 2، کیمار روچ اور جیڈن سیلز نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا 4 روزہ پریکٹس میچ بے نتیجہ ختم، پہلا ٹیسٹ 25 جولائی سے شروع ہوگا
ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز میں شائے ہوپ نے 92 اور کیویم ہوج نے 84 رنز کی اہم اننگز کھیلیں جبکہ پاکستان کی جانب سے محمد علی نے 4، محمد عباس نے 3 اور خرم شہزاد نے 2 وکٹیں حاصل کی تھیں۔













