پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 5 اگست کے پشاور جلسے کو ایک اہم موقع قرار دے رہی ہے، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے حوالے سے اہم اعلان کرنے والے ہیں، جو ان کے مطابق فیصلہ کن ہوگا۔
جلسہ کہاں اور کس وقت ہورہا ہے؟
پی ٹی آئی کے باخبر رہنماؤں کے مطابق پشاور کا جلسہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود کررہے ہیں، جس کے لیے باقاعدہ طور پر پارٹی سے مشاورت بھی نہیں ہوئی۔ ابتدائی طور پر جلسہ پشاور کے واحد کرکٹ اسٹیڈیم میں کرنے کا فیصلہ ہوا تھا، لیکن عوامی تنقید کے بعد اسے موٹروے ٹول پلازہ منتقل کردیا گیا۔
مزید پڑھیں: عمران خان رہائی فورس کے خدوخال پر غور ہوگا، پارٹی کسی ملیشیا پر یقین نہیں رکھتی، بیرسٹر گوہر
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پیر کے روز کارکنوں کے نام ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ 5 اگست کو شام 6 بجے پشاور ٹول پلازہ پر جلسہ ہوگا، جو فیصلہ کن ثابت ہوگا۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام، خصوصاً نوجوانوں سے بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ’ظلم، ناانصافی، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے خلاف عوام کو خود اٹھ کر آواز بلند کرنا ہوگی۔‘
’5 اگست کو فائنل کا اعلان کروں گا‘
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور جلسے کو سیمی فائنل قرار دیتے ہوئے کہاکہ 5 اگست کے جلسے میں عوام کی رائے کے مطابق اہم اعلانات کریں گے اور فیصلہ ہوگا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کیا اعلان کریں گے۔ البتہ انہوں نےکارکنوں سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔
سہیل آفریدی نے اپنے سیاسی مخالفین اور وفاق پر بھی تنقید کی اور عمران خان کی قید کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے عمران خان کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی، عدالتوں سے رجوع کیا اور ملاقات کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن انہیں ملنے نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے کہا، ’اب عوامی عدالت جانے کا وقت آگیا ہے، 5 اگست کو مقدمہ عوام کی عدالت میں رکھیں گے، اور فیصلہ بھی عوام ہی کریں گے۔‘
’5 اگست کے جلسے کے حوالے سے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات‘
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی خواہش پر پی ٹی آئی نے پشاور جلسے کا اعلان تو کیا ہے، لیکن اس حوالے سے اندرونی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پارٹی اجلاس میں بعض رہنماؤں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیاکہ جلسے کے فیصلے سے قبل مشاورت نہیں کی گئی، بلکہ اعلان کے بعد ان سے رائے لی جا رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کچھ مرکزی رہنما 5 اگست کو احتجاج یا جلسہ کرنے کے بھی مخالف ہیں۔ ان کے مطابق جلسے یا احتجاج کا اختیار قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کے پاس ہے، لیکن اعلان سہیل آفریدی کررہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مرکزی قیادت احتجاج کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دے رہی ہے۔
پشاور کے سینیئر صحافی و تجزیہ کار کاشف الدین سید کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت خود کنفیوژن کا شکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مسئلہ وفاق کے ساتھ ہے، لیکن احتجاج یا جلسہ پشاور میں کررہے ہیں۔
’بات کرنے کے اختیارات محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کے پاس ہیں، لیکن فیصلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کرتے ہیں، اور یہاں سرکاری وسائل بھی استعمال ہو رہے ہیں۔‘
جلسے کی کامیابی کے لیے سہیل آفریدی کا اراکین کو خصوصی ٹاسک
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے منتخب اراکین کو خصوصی طور پر ٹاسک دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو باہر نکالیں اور جلسے کو کامیاب بنائیں۔
اراکین کے مطابق انہیں 500 سے 5 ہزار تک کارکن لانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک رکن نے بتایا کہ پشاور کے اراکین کو خصوصی طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مہم چلائیں اور زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو نکالیں، جبکہ جنوبی اضلاع، ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے اراکین کو بھی کارکنان کو جلسے میں لانے اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اراکین نے اپنے اپنے حلقوں میں عوامی رابطہ مہم بھی شروع کردی ہے، جبکہ عمران خان کی بہن بھی رابطہ مہم کے سلسلے میں خیبرپختونخوا میں موجود ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اراکین کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ کارکنان نکالنے میں ناکامی کی صورت میں رپورٹ عمران خان کو دی جائےگی۔
’احتجاج کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں‘
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے بتایا کہ قریباً 8 ماہ کے وقفے کے بعد پی ٹی آئی جلسہ کرنے جا رہی ہے، جو فیصلہ کن ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ کافی عرصے سے عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ ہر جگہ ان کی جماعت کو انصاف بھی نہیں مل رہا۔
انہوں نے بتایا کہ 5 اگست کو سہیل آفریدی آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے، جو کارکنان کا مطالبہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ کارکنان تیار ہیں اور سہیل آفریدی کے اعلان پر سب نکلیں گے۔
سہیل آفریدی کیا اہم اعلان کرنے والے ہیں؟
پی ٹی آئی نے اس جلسے کو سیمی فائنل قرار دیا ہے، جس میں فائنل کا اعلان کیا جائےگا، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 5 اگست کو معمول کا جلسہ ہوگا۔
تجزیہ کار کاشف الدین سید کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست وزیراعلیٰ کی کرسی کے گرد گھوم رہی ہے اور خیبرپختونخوا تک محدود ہے۔
’یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پی ٹی آئی نے کسی اہم اعلان یا آخری مارچ کا دعویٰ کیا ہو۔ اس سے پہلے علی امین گنڈاپور نے بھی اسی طرح کا دعویٰ کیا تھا، لیکن نتیجہ کیا نکلا، سب کے سامنے ہے۔‘
ان کے مطابق 5 اگست کو کارکنان آئیں گے، تقاریر ہوں گی، نئی تاریخ دی جائے گی، اور پھر بات ختم ہو جائےگی۔
’پی ٹی آئی کے لوگ خیبرپختونخوا سے نکل ہی نہیں سکتے۔ اٹک پار کرتے ہی ان کے پر جل جاتے ہیں۔‘
کاشف الدین سید نے کہاکہ پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا میں جلسہ کرنے کے بجائے پنجاب یا لاہور سے آغاز کرنا چاہیے۔
’جہاں لوگوں کو نکلنا چاہیے، وہیں جانے سے بھی ڈرتے ہیں، اور خیبرپختونخوا میں قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے کارکنان کو مصروف رکھنے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔‘
کاشف کے مطابق خیبرپختونخوا پی ٹی آئی کا محفوظ مورچہ ہے، اور وہ اس مورچے سے باہر نہیں نکل سکتے۔
’علیمہ خان بھی رابطہ مہم کے لیے خیبرپختونخوا آتی ہیں، لیکن لاہور میں کوئی نہیں نکل رہا، جہاں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو لاہور سے مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ جلسے نہ سہی، ریلیاں یا کارنر میٹنگز ہی کر لے۔
’سہیل آفریدی مارچ کا اعلان کریں گے اور پھر خاموشی چھا جائےگی‘
نوجوان صحافی عارف حیات بھی کچھ حد تک کاشف الدین سید سے اتفاق کرتے ہیں۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی سیاسی سرگرمیاں سرکاری خرچے پر کرتی ہے اور وزیراعلیٰ پر انحصار کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: ’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟
انہوں نے کہا، ’خیبرپختونخوا میں کتنا ہی بڑا جلسہ ہو، اسلام آباد پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے؟ پشاور میں جلسے سے یہاں کے لوگ ہی متاثر ہوں گے، نقصان بھی صوبے کا ہی ہوگا۔‘
انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی جوشیلے انداز میں تقریر کریں گے، مارچ کا اعلان کریں گے، اور پھر خاموشی چھا جائے گی۔ ’جس طرح اسٹریٹ مہم یا عمران خان رہائی مہم کا ہوا، ویسا ہی اس کا بھی ہوگا۔‘













