سندھ سے لاپتا اور اغوا شدہ بچوں بشمول کمسن پریا کماری کے معاملے پر قائم پریا کماری ایکشن کمیٹی نے آئندہ اتوار کو کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس احتجاج میں کراچی بار کے وکلا بھی ایکشن کمیٹی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی یا اغوا؟ سندھ میں پورا گاؤں جلانے کی وجہ کیا بنی؟
ایکشن کمیٹی کے رہنما لیاقت جلبانی کے مطابق اس تحریک کا آغاز 4 سال قبل کمسن پریا کماری کے اغوا کے بعد ہوا تھا۔ ابتدا میں ببرلو بائی پاس پر 4 بچوں کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا تھا تاہم بعد میں مزید متاثرہ خاندانوں کے رابطے کے بعد لاپتا بچوں کی فہرست 27 تک پہنچ گئی جس کے بعد اس کیمپ نے ایک منظم دھرنے کی شکل اختیار کر لی۔
کارکنان کی گرفتاری اور پولیس کا مؤقف
کمیٹی رکن سوہنی پارس کے مطابق مظاہرین پر مقدمات درج کر کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا جبکہ رہائی آئندہ احتجاج نہ کرنے کی شرط پر دی گئی۔
مزید پڑھیں: پنجاب سے اغوا ہوکر سندھ میں فروخت ہونے والی شریفاں بی بی 44 سال بعد خاندان سے مل گئی
دوسری جانب پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ 3 اغوا شدہ بچوں کو بازیاب کرایا جا چکا ہے۔ تاہم ایکشن کمیٹی نے ان دعووں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بازیاب کرائے گئے بچوں کی تفصیلات اور ثبوت عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تحقیقاتی ٹیموں کی کارکردگی
ایکشن کمیٹی کے مطابق علی اصغر منگریو نامی بچہ گزشتہ 11 سال سے لاپتا ہے جس کے کیس میں اب تک 3 مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں مگر کیس میں فی الحال کوئی حتمی پیشرفت سامنے نہیں لا سکی ہے۔
ایکشن کمیٹی کے مطالبات
ایکشن کمیٹی نے اپنے بنیادی مطالبات پیش کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر سید خورشید شاہ اور سندھ کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پولیس سے بازیاب کرائے گئے 3 بچوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لانے کی اپیل کی ہے۔
مزید پڑھیں: کولا نیکسٹ کے مالک کا اغوا: ’ان حالات میں فورسز نہ ہوتیں تو زیادہ بہتر ہوتا‘، سندھ ہائیکورٹ
کمیٹی نے صوبے بھر میں بچوں کے اغوا کی روک تھام اور تمام لاپتا بچوں کی محفوظ واپسی کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔













