امریکی خلائی ادارے ناسا کے روور کیوریوسٹی نے مریخ کی سطح پر شہد کے چھتے جیسی حیران کن ساخت دریافت کر لی۔ یہ دریافت ’ویلے گرینڈے‘ نامی وادی میں ہوئی جہاں سینکڑوں کثیر الاضلاع نقوش ایک بلند ٹیلے کے گرد پھیلے ہوئے ہیں۔ ماہرین اسے پانی اور درجہ حرارت کی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
ناسا کا کیوریوسٹی روور 2012 میں مریخ پر اترنے کے بعد سے تقریباً 14 سال سے سرخ سیارے کی سطح کا جائزہ لے رہا ہے۔
حالیہ دریافت میں روور نے ایک وسیع میدان دریافت کیا جہاں شہد کے چھتے سے مشابہ ارضیاتی نقوش، جنہیں سائنسی زبان میں ’پولیگونل فریکچرز‘ کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پراسرار فضائی اجسام کی تصاویر موجود ہیں لیکن حقیقت اب بھی معمہ ہے، سربراہ ناسا جیرڈ آئزک مین
ماہرین کے مطابق ان میں سے ہر کثیر الاضلاع شکل تقریباً 1.5 سے 3 انچ چوڑی ہے اور یہ سب ایک 20 فٹ اونچے ریت سے ڈھکے ٹیلے کے گرد بنی ہوئی ہیں جسے سائنسدانوں نے ’مائیکرو فلیئرز‘ کا نام دیا ہے۔
سائنسدانوں کا ردعمل
مشن کے پروجیکٹ سائنسدان ایشون واساوادا، جن کا تعلق ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری، جنوبی کیلیفورنیا سے ہے، نے کہا کہ کیوریوسٹی کے ذریعے مریخ کے متعدد دلچسپ مناظر دیکھنے کے باوجود کثیر الاضلاع نقوش کا یہ وسیع سلسلہ ان کے لیے واقعی حیران کن ثابت ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم نے ان اشکال اور ان کی کیمیائی ساخت کا بغور جائزہ لیا ہے اور امید ظاہر کی کہ حاصل کردہ ڈیٹا میں اس بات کے شواہد مل سکتے ہیں کہ یہ نقوش کیسے وجود میں آئے۔
یہ نقوش کیسے بنے؟ سائنسدانوں کا نظریہ
تاہم اب تک اس بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکا کہ یہ حیران کن ساخت دراصل کن عوامل کے تحت وجود میں آئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نقوش ایک یا زیادہ ارضیاتی عمل کا نتیجہ ہیں جن میں پانی اور درجہ حرارت کی تبدیلیاں کارفرما رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:جوہری تنصیب کے اوپر پراسرار شے، پینٹاگون نے یو ایف اوز سے متعلق نئی فائلیں جاری کر دیں
یہ ساخت زمین پر خشک ہو جانے والی جھیلوں کی تہہ سے مشابہت رکھتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ بار بار گیلے اور خشک ہونے کے چکروں سے تشکیل پائی ہو۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شدید درجہ حرارت کی تبدیلیوں کے باعث پھیلاؤ اور سکڑاؤ کے مسلسل عمل نے بھی اس شہد کے چھتے نما ساخت کو جنم دیا ہو، ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ تلچھٹ کے دب جانے اور دباؤ میں آنے سے پانی باہر نکلا ہو، جس سے یہ شکلیں بنی ہوں۔
مٹی کی دراڑوں کے طور پر بنے نقوش
ناسا کے مطابق روور کو ماضی میں بھی اسی نوعیت کے کچھ نقوش ملے تھے جو واضح طور پر مٹی کی دراڑوں کے طور پر بنے تھے اور ان کے پیچھے بھی گرم و سرد موسمی چکر یا دباؤ ایسے عوامل کارفرما رہے جنہوں نے سطح کے دبنے کے دوران تلچھٹ سے پانی کو باہر نکالا۔
کیوریوسٹی روور 2012 سے مریخ پر سرگرم ہے اور اپنے مشن کے دوران متعدد اہم دریافتیں کر چکا ہے، جن میں ماضی میں پانی کی موجودگی کے شواہد بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پلوٹو سے آگے پراسرار دنیا، سورج سے 6 ارب کلومیٹر دور یہ برفانی بستی کیسی ہوگی؟
یہ روور مریخ پر زندگی کے امکانات اور سیارے کی ارضیاتی تاریخ سمجھنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ یہ تازہ دریافت 19-20 جون 2026 کو رپورٹ کی گئی اور فی الحال روور ’ماؤنٹ شارپ‘ نامی پہاڑ کی چڑھائی کر رہا ہے، جہاں مزید تحقیق جاری ہے۔














