مریخ پر 14 سالہ تحقیق کے بعد شہد کے چھتے جیسی حیران کن ساخت دریافت

جمعرات 30 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خلائی ادارے ناسا کے روور کیوریوسٹی نے مریخ کی سطح پر شہد کے چھتے جیسی حیران کن ساخت دریافت کر لی۔ یہ دریافت ’ویلے گرینڈے‘ نامی وادی میں ہوئی جہاں سینکڑوں کثیر الاضلاع نقوش ایک بلند ٹیلے کے گرد پھیلے ہوئے ہیں۔ ماہرین اسے پانی اور درجہ حرارت کی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

ناسا کا کیوریوسٹی روور 2012 میں مریخ پر اترنے کے بعد سے تقریباً 14 سال سے سرخ سیارے کی سطح کا جائزہ لے رہا ہے۔

حالیہ دریافت میں روور نے ایک وسیع میدان دریافت کیا جہاں شہد کے چھتے سے مشابہ ارضیاتی نقوش، جنہیں سائنسی زبان میں ’پولیگونل فریکچرز‘ کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پراسرار فضائی اجسام کی تصاویر موجود ہیں لیکن حقیقت اب بھی معمہ ہے، سربراہ ناسا جیرڈ آئزک مین

ماہرین کے مطابق ان میں سے ہر کثیر الاضلاع شکل تقریباً 1.5 سے 3 انچ چوڑی ہے اور یہ سب ایک 20 فٹ اونچے ریت سے ڈھکے ٹیلے کے گرد بنی ہوئی ہیں جسے سائنسدانوں نے ’مائیکرو فلیئرز‘ کا نام دیا ہے۔

سائنسدانوں کا ردعمل

مشن کے پروجیکٹ سائنسدان ایشون واساوادا، جن کا تعلق ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری، جنوبی کیلیفورنیا سے ہے، نے کہا کہ کیوریوسٹی کے ذریعے مریخ کے متعدد دلچسپ مناظر دیکھنے کے باوجود کثیر الاضلاع نقوش کا یہ وسیع سلسلہ ان کے لیے واقعی حیران کن ثابت ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم نے ان اشکال اور ان کی کیمیائی ساخت کا بغور جائزہ لیا ہے اور امید ظاہر کی کہ حاصل کردہ ڈیٹا میں اس بات کے شواہد مل سکتے ہیں کہ یہ نقوش کیسے وجود میں آئے۔

یہ نقوش کیسے بنے؟ سائنسدانوں کا نظریہ

تاہم اب تک اس بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکا کہ یہ حیران کن ساخت دراصل کن عوامل کے تحت وجود میں آئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نقوش ایک یا زیادہ ارضیاتی عمل کا نتیجہ ہیں جن میں پانی اور درجہ حرارت کی تبدیلیاں کارفرما رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:جوہری تنصیب کے اوپر پراسرار شے، پینٹاگون نے یو ایف اوز سے متعلق نئی فائلیں جاری کر دیں

یہ ساخت زمین پر خشک ہو جانے والی جھیلوں کی تہہ سے مشابہت رکھتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ بار بار گیلے اور خشک ہونے کے چکروں سے تشکیل پائی ہو۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شدید درجہ حرارت کی تبدیلیوں کے باعث پھیلاؤ اور سکڑاؤ کے مسلسل عمل نے بھی اس شہد کے چھتے نما ساخت کو جنم دیا ہو، ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ تلچھٹ کے دب جانے اور دباؤ میں آنے سے پانی باہر نکلا ہو، جس سے یہ شکلیں بنی ہوں۔

مٹی کی دراڑوں کے طور پر بنے نقوش

ناسا کے مطابق روور کو ماضی میں بھی اسی نوعیت کے کچھ نقوش ملے تھے جو واضح طور پر مٹی کی دراڑوں کے طور پر بنے تھے اور ان کے پیچھے بھی گرم و سرد موسمی چکر یا دباؤ ایسے عوامل کارفرما رہے جنہوں نے سطح کے دبنے کے دوران تلچھٹ سے پانی کو باہر نکالا۔

کیوریوسٹی روور 2012 سے مریخ پر سرگرم ہے اور اپنے مشن کے دوران متعدد اہم دریافتیں کر چکا ہے، جن میں ماضی میں پانی کی موجودگی کے شواہد بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پلوٹو سے آگے پراسرار دنیا، سورج سے 6 ارب کلومیٹر دور یہ برفانی بستی کیسی ہوگی؟

یہ روور مریخ پر زندگی کے امکانات اور سیارے کی ارضیاتی تاریخ سمجھنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ یہ تازہ دریافت 19-20 جون 2026 کو رپورٹ کی گئی اور فی الحال روور ’ماؤنٹ شارپ‘ نامی پہاڑ کی چڑھائی کر رہا ہے، جہاں مزید تحقیق جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

2 سال کی عمر سے پہلے کم چینی کھانا دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، نئی تحقیق

ایپل کے ستمبر ایونٹ میں آئی فون 18 پرو اور آئی فون الٹرا متعارف کرائے جانے کا امکان

اسحاق ڈار کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ، فلسطین اور مشرقی بیت المقدس کی صورتحال پر تبادلہ خیال

اوپن اے آئی ہگنگ فیس سائبر حملہ: نئی تفصیلات سامنے آگئیں، اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی صلاحیتوں پر ماہرین پریشان

پاک فضائیہ کے سربراہ سے بیلاروسی چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

ویڈیو

جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

ایکشن کمیٹی نے الیکشن فارم سے ریاست پاکستان سے وفاداری کی شق نکالنے کا مطالبہ کیا، وزیر امور کشمیر امیر مقام

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین