لاہور کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی پراسرار ہلاکت کا معمہ پولیس نے حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ خاتون نے مبینہ طور پر اپنے بچوں کو زہر دینے کے بعد خود بھی خودکشی کر لی، جبکہ زہریلا کیمیکل فروخت کرنے والے 2 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور تفتیش کے دوران حاصل ہونے والے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار تھی اور وہ انٹرنیٹ پر خودکشی کے طریقے تلاش کرتی رہتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب پولیس کی سال 2025 میں خطرناک مجرمان کے خلاف بڑی کارروائیاں، لاکھوں اشتہاری گرفتار
ان کے مطابق خاتون اپنے شوہر اور 3 بچوں کے ہمراہ امریکا سے لاہور آئی تھی۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ 17 جولائی کو اس نے آئس کریم میں پوٹاشیم سائنائیڈ ملا کر پہلے اپنے 3 بچوں کو کھلائی اور بعد ازاں خود بھی وہی آئس کریم کھا لی۔ پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے شوہر کو بھی زہریلی آئس کریم کھلانے کی کوشش کی، تاہم وہ اس سے محفوظ رہا۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ خاتون نے زہریلا کیمیکل اپنی رہائش گاہ کے بجائے ایک دوست کے گھر منگوایا تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ واقعے کے بعد شوہر کا پولی گرافک ٹیسٹ اور مختلف پہلوؤں سے مکمل تفتیش کی گئی، تاہم اس کے خلاف کسی مجرمانہ کردار کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
پولیس نے آن لائن پوٹاشیم سائنائیڈ فروخت کرنے والے کیمیکل شاپ کے مالک اور کیمیکل پہنچانے والے رائیڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔ تفتیش کے مطابق ملزم نے کیمیکل کی فروخت کے عوض ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے وصول کیے تھے۔
ذیشان رضا نے کہا کہ آن لائن زہریلے کیمیکلز کی غیر قانونی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے اور پولیس مضبوط شواہد کی بنیاد پر گرفتار ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کر کے انہیں قانون کے مطابق سزا دلانے کی کوشش کرے گی۔














