چین میں روبوٹس کے لیے منفرد اسکول، روزگار کے لیے تیار کیے جانے لگے

ہفتہ 1 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کے مشرقی شہر ہینگژو میں قائم ایک جدید قومی تربیتی مرکز میں روبوٹس کو روزمرہ کی ملازمتوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

اس وقت 140 سے زائد روبوٹس کو اسمارٹ کچن، گودام، زرعی فارم اور کانوں کی مصنوعی سرنگوں سمیت 40 سے زائد عملی ماحول میں تربیت دی جا رہی ہے۔

اگرچہ چینی روبوٹس پہلے ہی رقص، باکسنگ اور دیگر حیرت انگیز صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں، لیکن اب اصل توجہ انہیں حقیقی کام کے ماحول میں مؤثر انداز سے کام کرنے کے قابل بنانے پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روبوٹس کے بھی شناختی کارڈ: چین نے انسان نما روبوٹس کے لیے ڈیجیٹل پاسپورٹ لازمی کردیا

اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا نیشنل پائلٹ بیس فار ایمباڈیڈ اے آئی ایپلی کیشنز روبوٹس کو تجربہ گاہوں سے نکال کر عملی زندگی میں لانے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

16 مئی کو قائم ہونے والے اس مرکز میں روبوٹس کو حقیقی اور ورچوئل دونوں ماحول میں تربیت دی جاتی ہے۔

ماہرین مختلف کام بار بار انجام دلواتے ہیں جبکہ سینسر ہر کامیاب حرکت کا ڈیٹا محفوظ کرتے ہیں، جسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بعض اوقات روبوٹ کے بجائے ماہرین خصوصی دستانوں اور موشن کیپچر سوٹ کے ذریعے انسانی حرکات کا ڈیٹا بھی جمع کرتے ہیں۔

مرکز میں مختلف کمپنیوں نے اپنے تربیتی شعبے قائم کیے ہیں۔ ایک اسمارٹ کچن میں روبوٹس کو آرڈر لینے، اجزا اکٹھے کرنے، چند منٹ میں کھانا تیار کرنے، پیش کرنے اور برتن واپس اٹھانے کی مشق کرائی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: چینی ٹیکنالوجی کے خلاف واشنگٹن کا نیا محاذ، روبوٹس پر پابندی، بیجنگ کا سخت ردعمل

دوسری جانب گوداموں میں ہیومنائیڈ روبوٹس سامان اٹھانے، اسکین کرنے اور منتقل کرنے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، زرعی روبوٹس پکے ہوئے پھل توڑنے اور خودکار فورک لفٹس ملی میٹر کی درستگی سے سامان ترتیب دینے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس مشترکہ پلیٹ فارم نے کمپنیوں کے اخراجات اور تحقیق کا وقت نمایاں طور پر کم کر دیا ہے، کیونکہ ایک ہی مقام پر تمام ضروری سہولیات، ڈیٹا اور شراکت دار دستیاب ہیں۔

مزید پڑھیں: ملازمتوں کے لیے خطرہ ڈیلیوری روبوٹس اب شہریوں کا راستہ بھی روکنے لگے

ہینگژو میں روبوٹس کا عملی استعمال بھی شروع ہو چکا ہے۔ یکم مئی سے 15 ٹریفک روبوٹس شہر کے اہم چوراہوں اور سیاحتی مقامات پر شہریوں کی رہنمائی اور ٹریفک کی نگرانی میں پولیس کی معاونت کر رہے ہیں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہینگژو میں روبوٹکس سے وابستہ 700 سے زائد کمپنیاں موجود ہیں، جبکہ 2025 میں اس صنعت کی پیداوار تقریباً 15 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔

چین کا مقصد ان تربیت یافتہ روبوٹس کو مستقبل میں مختلف شعبوں میں عملی طور پر تعینات کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp