چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کسی کے دباؤ میں آ کر کام نہیں کرے گا اور ہر کسی کی ہر بات نہیں مانی جا سکتی۔
چیف الیکشن کمشنر نے مظفرآباد میں ایک پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پولنگ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے لیے متعلقہ حکام کو خط لکھ دیا گیا ہے اور آج اس حوالے سے صورتِ حال واضح ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 27 میں پولنگ 4 اگست کو ہوگی، چیف الیکشن کمشنر کا اعلان
ایک سوال کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے تمام فیصلے قانون اور ضابطے کے مطابق کرے گا اور کسی بھی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہر کسی کی ہر بات نہیں مانی جا سکتی، کمیشن اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کے مطابق فیصلے کرے گا۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ، پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات یا قبل از وقت بیانیہ؟
واضح رہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے مظفرآباد ڈویژن کے 8 حلقوں اور مہاجرین کے 12 حلقوں میں آج پولنگ جاری ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے صبح سے مختلف حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو متعدد شکایات ارسال کی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کے حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مضبوط دکھائی دے رہی ہے، جبکہ ان کے مطابق پیپلز پارٹی قبل از وقت دھاندلی کا بیانیہ تشکیل دے رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج آنے کے بعد ان الزامات کو بنیاد بنایا جا سکے۔












