پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر الیکشن سیل نے حلقہ ایل اے-31 کے امیدوار اور آزاد جموں و کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر پر مبینہ حملے کے خلاف چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر کو ہنگامی شکایت ارسال کر دی۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ پولنگ کے روز انتخابی عمل کے دوران قائم مقام صدر آزاد کشمیر اور پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر پر حملہ کیا گیا، جو نہ صرف انتخابی عمل بلکہ ریاست کے آئینی وقار پر بھی حملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 27 میں پولنگ 4 اگست کو ہوگی، چیف الیکشن کمشنر کا اعلان
شکایت کے مطابق یاسر شاہ، احمد شاہ اور فواد شاہ نے چوہدری لطیف اکبر پر جسمانی حملہ کیا، پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر پر حملہ محض ایک انتخابی بے ضابطگی نہیں بلکہ ریاست کے آئینی منصب اور ریاستی نظم پر حملہ ہے، جس پر اعلیٰ ترین سطح پر فوری ادارہ جاتی ردِعمل ناگزیر ہے۔
پیپلز پارٹی نے اپنی شکایت میں مزید کہا ہے کہ متعلقہ حکام سے مسلسل رابطہ ہے اور انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
مزید پڑھیں: کسی کے دباؤ میں آ کر کام نہیں کریں گے، چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کا دوٹوک اعلان
شکایت میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس واقعے کا فوری اور اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا جائے، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کر کے یاسر شاہ، احمد شاہ اور فواد شاہ کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے، ان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے اور مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
پیپلز پارٹی نے مزید مطالبہ کیا کہ حلقہ ایل اے-31 میں پولنگ کے بقیہ وقت کے لیے قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر کی سیکیورٹی مزید سخت کی جائے، جبکہ اس حملے میں ممکنہ سکیورٹی غفلت کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر پر حملہ دراصل ریاست پر حملہ ہے، جس پر الیکشن کمیشن کی فوری مداخلت ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ، پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات یا قبل از وقت بیانیہ؟
یہ شکایت پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر الیکشن سیل کے انچارج عبدالشکور کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو ارسال کی گئی ہے۔
جس کی نقول متعلقہ ریٹرننگ آفیسر، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر، انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، ضلعی انتظامیہ، چیف سیکریٹری آزاد کشمیر اور محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔












