فیفا میں اعتماد کا بحران، انفانٹینو کی قیادت ناقابل قبول قرار

اتوار 2 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

زیورخ: یورپی پیشہ ور فٹبال لیگز کے سربراہ نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق میں حصہ فروخت کرنے کا منصوبہ ناکام ہونے کے بعد فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کی حیثیت برقرار رکھنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

یورپی پروفیشنل فٹبال لیگز کے سربراہ کلاڈیئس شیفر نے، جن کی تنظیم مردوں اور خواتین کی 53 پیشہ ور فٹبال لیگز کی نمائندگی کرتی ہے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کے بعد انفانٹینو کے لیے ‘صرف ایک ہی منطقی نتیجہ’ باقی رہ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیفا نے شدید مخالفت کے بعد ورلڈ کپ سرمایہ کاری منصوبہ واپس لے لیا

انہوں نے کہا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ فیفا کے اہم فیصلہ ساز اداروں کو اس منصوبے سے آگاہ ہی نہیں کیا گیا تھا تو کسی بھی کمپنی یا تنظیم میں ایسی صورتحال کا صرف ایک ہی انجام ہوتا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انفانٹینو اب فیفا کی صدارت کے لیے قابل قبول نہیں رہے، شیفر نے جواب دیا کہ جب کوئی سربراہ کسی بڑے تجارتی معاہدے کو ادارے کے دیگر ذمہ داران کو اعتماد میں لیے بغیر آگے بڑھائے تو عموماً اس کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔

دوسری جانب انفانٹینو نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ شدید مخالفت کے باعث فیفا نے ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق میں حصہ فروخت کرنے کا منصوبہ واپس لے لیا ہے۔

ہفتے کے روز یورپی فٹبال کی تنظیم یوئیفا اور شمالی و وسطی امریکہ اور کیریبین کی تنظیم کونکاکاف نے بھی انفانٹینو کی قیادت پر اپنے اعتماد کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: فیفا بحران تیز: ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کے منصوبے پر اعلیٰ مشیر مستعفی

شیفر، جو سوئس فٹبال لیگ کے چیف ایگزیکٹو بھی ہیں، نے کہا کہ اس منصوبے سے یہ تاثر ملا کہ فیفا کا بنیادی مقصد مستقبل میں مزید اور بڑے ٹورنامنٹس کے انعقاد کے ذریعے تیسرے فریق کے مالی مفادات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔

‘یہ معاملہ صرف مالی فوائد تک محدود ہے، جبکہ دیگر تمام پہلوؤں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔’

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی لیگز نے اس تجویز کی مخالفت اس لیے کی کیونکہ اس سے پہلے ہی مصروف بین الاقوامی فٹبال کیلنڈر میں مزید میچز شامل ہو جاتے، جس کا براہِ راست نقصان قومی لیگز اور ڈومیسٹک چیمپئن شپ کو پہنچتا۔

شیفر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس منصوبے سے نہ صرف مختلف فٹبال تنظیمیں بلکہ فیفا کی اعلیٰ ترین گورننگ باڈی، فیفا کونسل، بھی لاعلم تھی۔

ان کے مطابق انہیں اس بات پر شدید حیرت ہوئی کہ فیفا کے صدر نے اس اہم معاملے پر مکمل طور پر تنہا فیصلہ سازی کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp