اسپین میں تارکین وطن کا بڑا بحران، سیوٹا میں ہزاروں افراد کی یلغار پر یورپی یونین میں ہنگامی مشاورت

پیر 3 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا (Ceuta) میں مراکش سے غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کی بڑی لہر کے بعد یورپی یونین میں ہنگامی مشاورت کا آغاز ہوگیا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران قریباً 50 سے 60 ہزار افراد نے زمینی اور سمندری راستوں سے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 67 افراد ہلاک ہوئے۔

مزید پڑھیں:سیوٹا مہاجر بحران: اٹلی نے اسپین سے سرحد بند کر دی، فرانس نے بھی نگرانی سخت کردی

اسپین نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے سیوٹا کی ساحلی سرحد پر 500 میٹر طویل تیرتی رکاوٹ نصب کر دی ہے، جبکہ فوج، پولیس اور کوسٹ گارڈ کی نفری میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ ہسپانوی حکام کے مطابق زیادہ تر تارکین وطن رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے ہیں، تاہم سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

بحران کے بعد یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اٹلی سمیت متعدد ممالک نے یورپ کی سرحدی پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے بعض یورپی رہنماؤں کے ردعمل کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مشترکہ یورپی حکمت عملی پر زور دیا ہے۔

مزید پڑھیں: اسپین کے علاقے سیوٹا میں مہاجرین کا سیلاب، مراکش سے ہزاروں افراد سرحد عبور کر گئے

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ برسوں میں یورپ کو درپیش سب سے بڑے سرحدی بحرانوں میں سے ایک ہے، جس نے ایک بار پھر ہجرت، سرحدی سلامتی اور شینگن معاہدے سے متعلق بحث کو تیز کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp