اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا (Ceuta) میں مراکش سے غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کی بڑی لہر کے بعد یورپی یونین میں ہنگامی مشاورت کا آغاز ہوگیا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران قریباً 50 سے 60 ہزار افراد نے زمینی اور سمندری راستوں سے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 67 افراد ہلاک ہوئے۔
مزید پڑھیں:سیوٹا مہاجر بحران: اٹلی نے اسپین سے سرحد بند کر دی، فرانس نے بھی نگرانی سخت کردی
اسپین نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے سیوٹا کی ساحلی سرحد پر 500 میٹر طویل تیرتی رکاوٹ نصب کر دی ہے، جبکہ فوج، پولیس اور کوسٹ گارڈ کی نفری میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ ہسپانوی حکام کے مطابق زیادہ تر تارکین وطن رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے ہیں، تاہم سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
▶️🇪🇸—Spain has deployed a floating maritime barrier in an effort to prevent migrant crossings into the Spanish enclave of Ceuta.
The measure is aimed at strengthening border controls along the coastal route, which has seen repeated attempts by migrants seeking entry into Spanish… pic.twitter.com/CFbdS1rFJL
— War Updates (@WarUpdates) August 1, 2026
بحران کے بعد یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اٹلی سمیت متعدد ممالک نے یورپ کی سرحدی پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے بعض یورپی رہنماؤں کے ردعمل کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مشترکہ یورپی حکمت عملی پر زور دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسپین کے علاقے سیوٹا میں مہاجرین کا سیلاب، مراکش سے ہزاروں افراد سرحد عبور کر گئے
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ برسوں میں یورپ کو درپیش سب سے بڑے سرحدی بحرانوں میں سے ایک ہے، جس نے ایک بار پھر ہجرت، سرحدی سلامتی اور شینگن معاہدے سے متعلق بحث کو تیز کر دیا ہے۔












