غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں تازہ حملوں میں کم از کم 18 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ طبی ذرائع کے مطابق حملوں کا نشانہ رہائشی علاقے، بے گھر افراد کی پناہ گاہیں اور امدادی سامان کی تقسیم کے قریب موجود مقامات بھی بنے، جس سے شہری ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوا۔
مزید پڑھیں:غزہ امن منصوبے پر مثبت پیشرفت کا خیرمقدم، پاکستان کا مکمل عملدرآمد پر زور
فلسطینی محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک ہزاروں فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ خوراک، صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت کے باعث غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر رہا ہے۔
Residents searching through the rubble of an Israeli strike in western Gaza City recovered the body of an unborn baby after the attack killed a pregnant woman, her husband and their five-year-old son. pic.twitter.com/nTIcyuNwLv
— Al Jazeera English (@AJEnglish) August 2, 2026
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں حماس کے ٹھکانوں اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جانی نقصان سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم حماس شہری علاقوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے، جس کی وجہ سے پیچیدہ صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کی خوشی، اسرائیل کی ہچکچاہٹ، غزہ معاہدے پر تل ابیب میں تقسیم نمایاں
ادھر جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم تاحال کسی نئے معاہدے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور متعدد عالمی رہنماؤں نے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔













