ٹرمپ کا ایران پر نئے حملے سے گریز، تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی

پیر 3 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئے حملے سے گریز اور تہران کے جوہری پروگرام پر فوری معاہدے کی کوششوں کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 4.49 ڈالر، یعنی 5.11 فیصد کمی کے بعد 83.44 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 4.90 ڈالر یا 5.79 فیصد سستا ہو کر 79.77 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل سستا، مگر پاکستان میں پیٹرول مہنگا؟

گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی، عمان کے قریب کئی آئل ٹینکروں پر حملوں اور خلیج میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا، کیونکہ شپنگ کمپنیاں خلیج میں داخل ہو کر تیل لوڈ کرنے سے گریز کر رہی تھیں۔

تاہم ہفتے کی شب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک نے ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید وقت مانگا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور مستقل طور پر دوبارہ کھول دیا جائے گا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کی اصل توجہ اس بات پر ہے کہ آیا اس ہفتے بھی گزشتہ ہفتے کی طرح مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں یا واقعی کوئی پیش رفت ہوتی ہے۔

ان کے بقول اگر ایران اپنے مؤقف پر قائم رہا اور آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے کسی امریکی اڈے یا گزرنے والے ٹینکر پر حملہ کرتا ہے تو صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر

دوسری جانب شپنگ ڈیٹا کے مطابق ہفتے اور اتوار کے دوران سعودی عرب کا خام تیل لے جانے والے 2 ٹینکر بحیرہ احمر سے باب المندب آبنائے عبور کر گئے، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت حالیہ حملوں کی اطلاعات کے بعد سست رہی۔

برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی ہفتے سے اب تک مزید 3 آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاع دی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا، ایران کشیدگی میں شدت، برینٹ خام تیل 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا

ادھر اتوار کو اوپیک پلس نے ستمبر سے یومیہ تقریباً ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل پیدا کرنے کی منظوری دے دی، جس سے رضاکارانہ پیداواری کٹوتیوں کے خاتمے کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اوپیک پلس نے رواں سال مسلسل پیداوار بڑھانے کے فیصلے کیے، تاہم خلیجی خطے، روس اور قازقستان سے برآمدات ایران اور یوکرین کی جنگوں کے باعث متاثر رہیں، جس کے نتیجے میں ان اضافوں کا عالمی منڈی پر عملی اثر محدود رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp