اسرائیل کی ایک عدالت نے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کے اس منصوبے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے، جس کے تحت جنوبی اسرائیل کے صحرائے نقب (نیگیو) میں واقع کیتزیوت جیل کے اطراف کھودی گئی خندقوں میں مگرمچھ چھوڑنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس جیل میں غزہ سے گرفتار کیے گئے فلسطینی قیدی رکھے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے ان فلسطینیوں کے لیے مختص جیل کے حصے کے گرد خندقیں کھودنا شروع کر دی تھیں، جنہیں 7 اکتوبر 2023 کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بن گویر کے منصوبے کے مطابق ان خندقوں میں مگرمچھ رکھے جانے تھے تاکہ انہیں حفاظتی اقدام اور باز رکھنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
سرکاری نشریاتی ادارے KAN کے مطابق یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ نے اتوار کی شام جانوروں کے حقوق کی تنظیم ’لیٹ دی اینیملز لِو‘ کی درخواست پر عارضی حکمِ امتناع جاری کیا۔ اس منصوبے کی حمایت اسرائیل کی وزارتِ قومی سلامتی اور اسرائیلی جیل سروس کر رہی تھی۔
عدالت کے جج ابراہم روبن نے حکام کو ماحولیاتی تحفظ کی وزیر ایدیت سلمن کے اس فیصلے پر عمل درآمد سے روک دیا، جس میں مگرمچھوں کو قانونی طور پر نگہداشت میں رکھے جانے والے جنگلی جانورقرار دیا گیا تھا۔ اس قانونی درجہ بندی کے بعد انہیں جیل منتقل کرکے وہاں رکھا جا سکتا تھا۔
عدالت کا یہ حکم اس وقت سامنے آیا جب مذکورہ تنظیم نے تل ابیب یونیورسٹی کے ماحولیاتی انصاف اور جانوروں کے حقوق کلینک کے تعاون سے وزیر ایدیت سلمن، ایتامار بن گویر اور اسرائیلی جیل سروس کے خلاف انتظامی درخواست دائر کی۔
عدالت کی جانب سے جاری عارضی حکم اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک اسرائیلی حکام عدالت میں اپنا جواب جمع نہیں کرا دیتے، جس کی توقع اگست کے وسط تک کی جا رہی ہے۔
تنازع کی بنیاد کیا ہے؟
رپورٹ کے مطابق تنازع کی بنیاد 15 جولائی کو وزیر ایدیت سلمن کا وہ فیصلہ ہے، جس کا مقصد مگرمچھوں کو جیلوں میں حفاظتی اور باز رکھنے کے ذریعےکے طور پر استعمال کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا۔
درخواست گزار تنظیم کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے مگرمچھوں کی قانونی حیثیت تبدیل ہو جائے گی اور ان پر بطور محفوظ جنگلی جانور لاگو نگرانی اور لائسنسنگ کے ضوابط ختم ہو جائیں گے۔
تنظیم نے عدالت کو بتایا کہ اسرائیلی جیل سروس جیل کے گرد نہر نما خندق کی تعمیر سمیت بنیادی ڈھانچے پر کام شروع کر چکی ہے، جبکہ وزارتِ قومی سلامتی نے اس آزمائشی منصوبے کے لیے 2 کروڑ 10 لاکھ شیکل (تقریباً 69 لاکھ امریکی ڈالر) مختص کیے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ فیصلہ مناسب قانونی اختیار کے بغیر کیا گیا اور ماہرین کی ان آراء کو نظر انداز کیا گیا جن میں جانوروں، عوام اور ماحولیات کے لیے ممکنہ خطرات سے خبردار کیا گیا تھا۔
جانوروں کے حقوق کی تنظیم کا مؤقف
لیٹ دی اینیملز لِواور تل ابیب یونیورسٹی کے ماحولیاتی انصاف اور جانوروں کے حقوق کلینک نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس حکم سے فی الحال ایسے ناقابلِ واپسی اقدامات رک گئے ہیں جو منصوبے پر عمل درآمد کو آگے بڑھا سکتے تھے، جبکہ تنظیم اس منصوبے کو مستقل طور پر منسوخ کرانے کی کوشش جاری رکھے گی۔
فلسطینی قیدیوں کی صورتحال
رپورٹ کے مطابق ایتامار بن گویر نے 2022 کے اواخر میں منصب سنبھالنے کے بعد فلسطینی قیدیوں کی حراستی شرائط مزید سخت کر دی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان پالیسیوں میں خوراک کی شدید قلت، طبی سہولیات سے محرومی، تشدد اور طویل تنہائی جیسی اقدامات شامل ہیں۔
فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تقریباً 9 ہزار 500 فلسطینی قیدی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، سخت حالات میں قید ہیں۔ ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ بھوک، تشدد اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث درجنوں فلسطینی قیدی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔














