مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو لے کر دنیا کے دو بڑے ٹیک رہنماؤں سیم آلٹ مین اور ایلون مسک کے درمیان اختلاف سامنے آ گیا ہے۔ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثرات کے باوجود آئندہ 10 برس میں پیسے کی اہمیت برقرار رہے گی۔
ایک حالیہ سڑک پر کیے گئے انٹرویو میں جب سیم آلٹ مین سے ایلون مسک کے پیسے کی اہمیت ختم ہونے سے متعلق مؤقف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے باعث دولت اور طاقت کے چند ہاتھوں میں مرکوز ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک سیم آلٹمین کے خلاف مقدمہ کیوں ہارے؟ تکنیکی وجہ سامنے آگئی
سیم آلٹ مین کا کہنا تھا کہ ‘میرا خیال ہے کہ 10 سال بعد بھی پیسہ اہمیت رکھے گا۔ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے میری سب سے بڑی تشویش طاقت اور دولت کا ارتکاز ہے۔’
Sam Altman on what he thinks "Money won't matter by 2036" prediction by Elon Musk.
His answer was surprisingly honest.
"I think money will still matter in ten years. One of the greatest concerns I have with AI is the concentration of power and concentration of wealth."
"There… pic.twitter.com/aSANgI6cYI
— Vaibhav Sisinty (@VaibhavSisinty) August 3, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کئی وجوہات موجود ہیں جن کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مصنوعی ذہانت خود بخود دولت کی غیر مساوی تقسیم کا مسئلہ حل کردے گی۔
دوسری جانب اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے ایک حالیہ انٹرویو میں پیش گوئی کی تھی کہ 2036 تک پیسے کی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر خوراک، رہائش، نقل و حمل اور تفریح جیسی ضروریات بہت زیادہ مقدار میں دستیاب ہو جائیں تو انسان کو پیسے کی ضرورت کم محسوس ہوگی۔
ایلون مسک کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مصنوعات اور خدمات دنیا بھر میں اتنی زیادہ مقدار میں دستیاب ہو سکتی ہیں کہ موجودہ معاشی نظام کی بنیادیں تبدیل ہوجائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت پر کنٹرول کی جنگ: ایلون مسک اور سیم آلٹمین عدالت میں آمنے سامنے
دونوں ٹیک رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کریں گے اور اشیا کی تیاری کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی، تاہم اختلاف اس بات پر ہے کہ اس ترقی کے فوائد سب تک یکساں پہنچیں گے یا نہیں۔
Elon Musk: "I'll make another prediction, money won't matter in 2036."
Musk says when robots and AI are providing more goods and services than any human could possibly consume, money becomes meaningless.
"You want money for food, housing, transport, entertainment. If that is so… pic.twitter.com/fklTPe6juz
— Coin Bureau (@coinbureau) July 26, 2026
ایلون مسک کا نظریہ یہ ہے کہ اگر خودکار نظام انتہائی مؤثر انداز میں اشیا اور خدمات پیدا کرنے لگیں تو کمیابی ختم ہو جائے گی اور پیسے کی بنیادی ضرورت کم ہوجائے گی۔
اس کے برعکس سیم آلٹ مین کا مؤقف ہے کہ صرف وافر پیداوار سے برابری پیدا نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق اگر گاڑی یا گھر بنانا بہت سستا بھی ہو جائے تب بھی ملکیت کے حقوق، سرمایہ دارانہ نظام اور بڑی کمپنیوں کی طاقت جیسے عوامل میں پیسے کا کردار برقرار رہ سکتا ہے۔














