پورٹ آف اسپین میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے دوران سابق ویسٹ انڈین فاسٹ باؤلر اور معروف کرکٹ کمنٹیٹر این بشپ نے پاکستان کے بلے باز عبداللہ شفیق کی تکنیک کو سراہتے ہوئے سیالکوٹ کی ادبی روایت کا دلچسپ انداز میں ذکر کیا۔
کمنٹری کے دوران این بشپ نے کہا کہ کریز پر موجود عبداللہ شفیق اور بابر اعظم کے حوالے سے ایک دلچسپ بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں سیالکوٹ کے بارے میں کرکٹ مبصر سیموئل بدری سے بہت کچھ جاننے کا موقع ملا، جو اس شہر کی ادبی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:ویسٹ انڈیز پہلی اننگز میں 344 رنز بنا کر آؤٹ، روسٹن چیس کی نصف سینچری، ساجد خان کی 4 وکٹیں
این بشپ نے کہا کہ سیالکوٹ عظیم شعرا اور ادیبوں کی سرزمین ہے، جہاں سے علامہ محمد اقبال، فیض احمد فیض اور پروین شاکر (کراچی) جیسی نامور شخصیات وابستہ رہی ہیں۔
Ian Bishop:
Sialkot’s legacy of producing poets and literary figures like Allama Iqbal,Parveen Shakir,and Faiz Ahmed Faiz.Babar Azam gave Abdullah Shafique the nickname “Kitabi-Player” and it’s not for any literary reasons,but because of his purely textbook batting technique. pic.twitter.com/g7lfRsz3U9— Abbas Malik (@AbbasMalik95703) August 4, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ عبداللہ شفیق کا عرفی نام ’کتابی‘ ہے، تاہم یہ لقب ان کی کتابیں پڑھنے کی عادت یا ادبی دلچسپی کی وجہ سے نہیں، بلکہ کپتان بابر اعظم نے ان کی انتہائی شاندار اور نصابی (ٹیکسٹ بک) بیٹنگ تکنیک کی وجہ سے دیا ہے۔
این بشپ کے مطابق عبداللہ شفیق کی تکنیک نہایت صاف، متوازن اور مکمل دکھائی دیتی ہے، اسی لیے انہیں ’کتابی‘ کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ سیالکوٹ کی ادبی روایت اور عبداللہ شفیق کی ’ٹیکسٹ بک‘ بیٹنگ ایک خوبصورت تاثر پیدا کرتی ہے، گویا وہ اپنے کھیل کے ذریعے اس شہر کی بہترین روایات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
این بشپ نے آخر میں کہا کہ عبداللہ شفیق اور بابر اعظم کی شراکت نہ صرف پاکستان کے لیے اہم ثابت ہو رہی ہے بلکہ یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا کہ دونوں بلے باز اس اننگز کو کہاں تک لے جاتے ہیں۔














