لاہور کے غازی آباد پولیس اسٹیشن میں ایک خاتون سے مبینہ زیادتی کے واقعے کے بعد تھانے کے پورے عملے کو معطل کردیا گیا ہے۔
لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (آپریشنز) فیصل کامران نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر پر الزام ہے کہ اس نے اتوار کے روز پولیس اسٹیشن کی عمارت میں ایک کمرے کے اندر خاتون کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: چترال، ذہنی و جسمانی معذور خاتون سے زیادتی، جب پورا گاؤں شامل تفتیش اور نوجوانوں کا ڈی این اے کیا گیا؟
ان کے مطابق خاتون نے اعلیٰ پولیس حکام کی موجودگی میں اس کمرے کی نشاندہی بھی کی جہاں مبینہ واقعہ پیش آیا۔ یہ کمرہ تھانے کی بالائی منزل پر واقع ہے۔
فیصل کامران کا کہنا تھا کہ پولیس قواعد کے مطابق تھانے میں تعینات تمام اہلکار کسی بھی غیر قانونی یا مشکوک سرگرمی کی نگرانی کے ذمہ دار ہوتے ہیں، اسی لیے پورے عملے کو معطل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی اہلکار نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر خاتون پولیس اہلکار کی عدم موجودگی میں ایک خاتون کو تھانے کیوں لایا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق غازی آباد تھانے میں تعینات 70 سے زائد افسران اور اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیکب آباد: خاتون کا پولیس اہلکاروں پر پوتی سے زیادتی کا سنگین الزام، وزیر داخلہ سندھ کا نوٹس
واقعے کا مقدمہ پیر کے روز غازی آباد پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 (زیادتی کی سزا) اور پولیس آرڈر 2002 کی دفعہ 155-سی کے تحت درج کیا گیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق متاثرہ خاتون کے والد نے بیان دیا کہ ان کی تقریباً 20 سالہ ذہنی معذوری کا شکار بیٹی اتوار کی دوپہر گھر سے نکلی تھی لیکن کافی دیر تک واپس نہ آئی، جس پر اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کی۔
والد کے مطابق ایک شخص نے بتایا کہ سادہ لباس میں ملبوس ایک پولیس اہلکار ان کی بیٹی کو اپنے ساتھ لے گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سینٹورس مال کے رہائشی ٹاور میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی، 2 ملزمان گرفتار
انہوں نے بتایا کہ رات تقریباً 9 بجے وہ غازی آباد پولیس اسٹیشن پہنچے، تاہم اسی دوران ان کے بھائی نے فون کر کے اطلاع دی کہ ان کی بیٹی گھر واپس آگئی ہے۔
والد کے مطابق جب وہ گھر پہنچے تو ان کی بیٹی رو رہی تھی۔ وجہ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار اسے موٹر سائیکل پر اپنے ساتھ لے گیا اور پھر اس کے ساتھ زیادتی کی۔













