پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت کی الٹی گنتی شروع ہونے کے دعوے سنجیدہ نہیں بلکہ عوامی توجہ حاصل کرنے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔ محسن نقوی کے بیان سے غیریقینی پیدا ہوئی ہے، اس لیے سنجیدہ معاملات پر ذمہ داری سے بات ہونی چاہیے، حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، تاہم غلط وقت پر غلط بیان دیا گیا۔
وی نیوز سے گفتگو کتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر بلاول بھٹو زرداری واقعی اپنے بیان پر سنجیدہ ہیں تو انہیں پہلے اپنی جماعت کے ان عہدیداروں سے استعفے دلوانے چاہییں جو وفاقی حکومت کا حصہ ہیں، اس کے بعد حکومت کے خلاف کسی تحریک یا ’ٹک ٹک‘ کی بات کرنی چاہیے۔
مزید پڑھیں: محسن نقوی کی گفتگو اور انداز گفتگو پر اعتراض مگر نواز شریف نے جواب دینے سے منع کردیا، رانا ثنااللہ
عظمیٰ بخاری نے کہاکہ کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ قابل احترام ہوتا ہے، تاہم یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آیا یہ بیانات صرف اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں یا واقعی ان پر عملدرآمد کا ارادہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف سنجیدہ ہے تو پہلے صدر آصف علی زرداری، چیئرمین سینیٹ، گورنرز اور دیگر حکومتی عہدوں پر موجود اپنی جماعت کے نمائندوں کو واپس بلائے، پھر حکومت کی ’الٹی گنتی‘ شروع کرے۔
محسن نقوی کے بیان پر ردعمل
عظمیٰ بخاری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں انہوں نے نظام کے تباہ ہونے کی بات کی تھی۔
انہوں نے کہاکہ ایسے بیانات سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، البتہ ملک میں غیر یقینی کی فضا ضرور پیدا ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ محسن نقوی خود بھی موجودہ نظام کا حصہ ہیں، اس لیے انہیں اس نوعیت کے حساس معاملات پر زیادہ ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
مریم نواز کے منصوبوں کا دفاع
وزیر اطلاعات پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ لیپ ٹاپ اسکیم پر تنقید زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ان کے مطابق ہزاروں طلبہ لیپ ٹاپ پروگرام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، متعدد نوجوان انہی لیپ ٹاپس کے ذریعے آن لائن تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ بہت سے طلبہ فری لانسنگ کرکے نہ صرف اپنی آمدنی بڑھا رہے ہیں بلکہ اپنے خاندان کی مالی معاونت بھی کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب کے دیگر منصوبے جن میں آسان کاروبار پروگرام، اسکل ڈویلپمنٹ، پرواز کارڈ اور ’اپنی زمین، اپنا کھیت‘ جیسے اقدامات شامل ہیں، نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہاکہ ان منصوبوں سے خواتین، نوجوانوں اور خواجہ سراؤں سمیت مختلف طبقات مستفید ہو رہے ہیں اور حکومت ان منصوبوں کے نتائج کا باقاعدہ جائزہ بھی لے رہی ہے۔
نئے انتظامی یونٹس پر رائے
عظمیٰ بخاری نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق سوال پر کہاکہ اس معاملے پر ابھی حکومت کی سطح پر تفصیلی مشاورت ہونا باقی ہے۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بھی اس حوالے سے ابھی کوئی تفصیلی بات نہیں ہوئی، اس لیے حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ اس معاملے میں کئی آئینی، انتظامی اور مالی پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہے اور ایسا فیصلہ 24 یا 48 گھنٹوں میں نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ ان کی ذاتی رائے میں موجودہ مالی حالات میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت کو ترقیاتی منصوبے جاری رکھنے کے لیے اخراجات میں توازن پیدا کرنا پڑا ہے، جبکہ وفاق کی معاونت کے لیے بھی ترقیاتی فنڈز میں کمی کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے پہلے اس کے مالی اور انتظامی اثرات پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔
علیم خان کو اپنے محکمے کی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے
استحکام پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان کی جانب سے نواز شریف پر تنقید کے حوالے سے عظمیٰ بخاری نے کہاکہ شاید علیم خان کی یادداشت کمزور ہو گئی ہے، کیونکہ ملک میں سب سے زیادہ انفراسٹرکچر اور سڑکوں کا جال مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں بچھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ آج سڑکوں کی تعمیر کا محکمہ خود علیم خان کے پاس ہے، اس لیے انہیں دوسروں سے سوال کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ نواز شریف ملک کے تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم اور سینیئر ترین سیاستدان ہیں، اس لیے ان کے بارے میں احترام کے دائرے میں رہ کر بات ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ استحکام پاکستان پارٹی اتحادی جماعت ہے اور مسلم لیگ (ن) تمام اتحادیوں کے ساتھ باہمی احترام اور بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کی خواہاں ہے، تاہم اگر کسی کی جانب سے غیر مناسب زبان استعمال کی گئی تو اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی کی تنقید پر جواب
پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت پر مسلسل تنقید کے بارے میں سوال پر عظمیٰ بخاری نے کہاکہ اگر پیپلز پارٹی واقعی موجودہ حکومت کو فارم 47 کی حکومت سمجھتی ہے تو پھر اسے اپنی جماعت کے ان رہنماؤں سے بھی استعفے دلوانے چاہییں جو اسی نظام کے تحت اہم آئینی عہدوں پر موجود ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر حکومت کو جعلی قرار دیا جا رہا ہے تو پھر چیئرمین سینیٹ، گورنرز، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور دیگر عہدوں پر پیپلز پارٹی کی موجودگی کی بھی وضاحت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ پنجاب میں ہر سیاسی جماعت کو آزادانہ سیاست اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے اور یہاں کسی امیدوار کو انتخابی میدان سے غائب نہیں کیا جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سیاسی ماحول دیگر کئی صوبوں کے مقابلے میں زیادہ کھلا اور جمہوری ہے۔
تحریک انصاف کے بیانات پر ردعمل
عظمیٰ بخاری نے علی امین گنڈاپور اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ غیر ضروری سنسنی پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کی صحت، جیل کے اندر مبینہ تشدد یا دیگر معاملات سے متعلق مختلف اور متضاد دعوے خود تحریک انصاف کے حلقوں سے سامنے آتے رہتے ہیں، جن کی اکثر کوئی تصدیق نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہاکہ جیل کے اندر سیکیورٹی اور نظم و ضبط برقرار رکھنا جیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے قائم ضابطہ اخلاق پر عمل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی جانب سے آئے روز نئے دعوے کیے جاتے ہیں، جن میں کبھی زہر دینے، کبھی صحت خراب ہونے اور کبھی دیگر خطرات کی بات کی جاتی ہے، تاہم ان دعوؤں کی حقیقت اکثر سامنے نہیں آتی۔
کراچی کی صورتحال پر تنقید
وزیر اطلاعات پنجاب نے کراچی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہاں کی شہری سہولیات پر اب ڈراموں اور دیگر پروگراموں میں بھی طنز کیا جاتا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام کو بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ طویل عرصے سے حکومت میں رہنے کے باوجود پیپلز پارٹی کو اپنی کارکردگی کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
مزید پڑھیں: جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی
قومی ڈائیلاگ سے متعلق سوال پر عظمیٰ بخاری نے تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہاکہ اس حوالے سے وہ فی الحال اپنی رائے محفوظ رکھنا چاہتی ہیں اور مناسب وقت پر اس موضوع پر اظہار خیال کریں گی۔













