امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران جوہری امور کے ماہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو مرکزی حیثیت دیں اور تہران کو آبنائے ہرمز کے مسئلے کے ذریعے پابندیوں میں نرمی یا دیگر رعایتیں حاصل کرنے کا موقع نہ دیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) کے سربراہ احمد وحیدی نے بدھ کے روز کہا کہ جب تک امریکا اور اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، ایران بھی اپنی قومی سلامتی کے لیے جوہری پروگرام جاری رکھے گا۔
احمد وحیدی نے کہا، ’اگر امریکا اور اسرائیل اپنے جوہری ہتھیار ختم کر دیں تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے، لیکن جب تک ان کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے، ہم اپنا پروگرام جاری رکھیں گے۔‘
ٹرمپ کا مؤقف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران مذاکرات سے پیچھے ہٹا تو امریکا کے پاس فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ایران امریکا مذاکرات کا اصل امتحان شروع، اگلے 60 دن فیصلہ کن، آگے کیا ہوگا؟
انہوں نے کہا، ’اگر وہ دوبارہ مذاکرات سے پیچھے ہٹے تو انہیں بہت سخت جواب ملے گا۔ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
ٹرمپ کے مطابق منگل کو امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان پورا دن مذاکرات ہوئے، جو ان کے بقول ’انتہائی مثبت‘ رہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں مذاکرات کا محور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔
ماہرین نے کیا خدشات ظاہر کیے؟
فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کی نائب ڈائریکٹر اینڈریا اسٹرکر کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کی ترتیب ایران کی خواہش کے مطابق رہی تو تہران پہلے آبنائے ہرمز، پابندیوں میں نرمی اور دیگر مراعات حاصل کر لے گا، جبکہ بعد میں جوہری پروگرام پر امریکا کے پاس دباؤ ڈالنے کے مؤثر ذرائع باقی نہیں رہیں گے۔
ان کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ اس کے یورینیم کے ذخائر، جوہری تنصیبات اور افزودگی کے پروگرام پر بنیادی رعایتیں دینے سے پہلے زیادہ سے زیادہ اقتصادی فوائد حاصل کر لیے جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے یہی حکمت عملی اختیار کی تو مستقبل میں ایران سے جوہری پروگرام پر بڑی رعایتیں لینا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
ایران کی ممکنہ حکمت عملی
رپورٹس کے مطابق ایران نے پہلے بھی تجویز دی تھی کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور جنگ ختم کی جائے، جس کے بعد جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع ہوں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ تہران اس وقت اپنی توجہ آبنائے ہرمز پر اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ جوہری پابندیوں کے معاملے پر فوری پیش رفت میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہا۔
آئی اے ای اے کے معائنوں کی بحالی پر زور
آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کی ماہر کیلسی ڈیون پورٹ نے کہا کہ کسی بھی تفصیلی جوہری مذاکرات سے پہلے ضروری ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ایرانی جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دی جائے۔
ان کے مطابق ایک سال سے زائد عرصے سے آئی اے ای اے کے معائنہ کار ایران کی اہم جوہری تنصیبات کا معائنہ نہیں کر سکے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ ایران کے پاس اس وقت کتنی جوہری صلاحیت باقی ہے۔
یہ بھی پڑھیے سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکا مذاکرات کو تعطل سے بچانے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، طلعت حسین
انہوں نے تجویز دی کہ امریکا ایران کو مرحلہ وار اور قابلِ تصدیق اقدامات کے بدلے محدود پابندیوں میں نرمی دے، تاکہ اعتماد سازی بھی ہو اور ایران کے جوہری پروگرام پر مؤثر نگرانی بھی برقرار رہے۔
آبنائے ہرمز پر مذاکرات بھی جاری
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان زیر غور مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کے انتظام میں ایران کو محدود کردار دیا جا سکتا ہے، جبکہ ایران اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔
تاہم امریکا ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول یا لازمی ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کا اختیار دینے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جوہری پروگرام کو مذاکرات کے آخری مرحلے تک مؤخر کر دیا گیا تو ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر، جوہری انفراسٹرکچر اور حساس ٹیکنالوجی کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکتا ہے، جس سے مستقبل میں خطے کے امن و استحکام کو دوبارہ خطرات لاحق ہونے کا خدشہ رہے گا۔














