1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے میں امن کا راستہ ہے، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری مشترکہ بیان میں 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ غزہ میں طبی مراکز، صحت کے بنیادی ڈھانچے، شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا اور خواتین و بچوں سمیت عام شہریوں کی مسلسل ہلاکتیں بین الاقوامی قانون، بالخصوص انسانی ہمدردی کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو انتباہ

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کا تسلسل بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی ہے اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عمل درآمد کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ صورتحال سیاسی عمل کو متاثر کرسکتی ہے، کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے اور غزہ میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔

مشترکہ بیان میں شہریوں کے تحفظ، طبی مراکز، صحت اور انسانی امداد سے وابستہ کارکنوں کے تحفظ اور غزہ بھر میں فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد، طبی سامان اور ضروری اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

8 ممالک نے کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی اقدامات کو مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور مقبوضہ بیت المقدس کی صورتحال تبدیل کرنے کی یکطرفہ کوششوں سے الگ نہیں دیکھا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا شدید ردعمل

بیان میں کہا گیا کہ یہ تمام اقدامات طاقت کے ذریعے حقائق تبدیل کرنے کی منظم پالیسی کا حصہ ہیں، جو 2 ریاستی حل کی بنیادوں کو نقصان پہنچاتے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظر انداز کرتے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے، اسرائیل کو بین الاقوامی قانون اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی پاسداری پر مجبور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے اور سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد کا احتساب یقینی بنائے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات کا مقصد شہریوں کا تحفظ، معاہدے پر عمل درآمد کے امکانات کو برقرار رکھنا اور مستقل جنگ بندی کا حصول ہونا چاہیے۔

8 اسلامی ممالک نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق، ان پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے اور فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ منصفانہ اور جامع امن کا واحد راستہ ایک سنجیدہ سیاسی عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ پر حملے رُکوائے جائیں، او آئی سی سیکریٹری جنرل کے عالمی رہنماؤں کو خطوط

مشترکہ بیان میں 2 ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام 1967 کی سرحدوں کے مطابق ہونا چاہیے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغانستان میں طالبان مخالف گروپس کی کارروائیاں تیز، چوکی پر حملہ کرکے اسلحہ پر قبضے کا دعویٰ

لیک رپورٹ نے ٹک ٹاک کی نوجوانوں کے تحفظ کی پالیسی پر نئی بحث چھیڑ دی

کیا اے آئی واقعی قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی، میٹا اور دیگر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

طبی میدان میں ایک اور انقلابی ایجاد، کرونا کے بعد اب فلو ویکسین متعارف

لندن کے کووینٹ گارڈن میں 4 افراد پر چاقو سے حملہ کرنے والی خاتون پر فرد جرم عائد

ویڈیو

شہبازشریف کا مستقبل کیا؟ بڑی خبر، کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ پی ٹی آئی کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام، اندر کی خبر

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب روانہ، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اہم ملاقات کریں گے

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ