سپریم کورٹ فیصلے کے باوجود ٹرمپ کا نیا اقدام، پیدائشی شہریت محدود کرنے کے لیے نئے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ ایگزیکٹو آرڈر مسترد کیے جانے کے بعد پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) کو محدود کرنے کی نئی کوشش کرتے ہوئے 2 نئے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کر دیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق نئے احکامات کے تحت برتھ ٹورازم(Birth Tourism) پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے تحت حاملہ خواتین صرف بچے کی پیدائش کے لیے امریکا آتی ہیں تاکہ ان کے بچوں کو امریکی شہریت حاصل ہو سکے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ: ٹرمپ مشکل دوراہے پر، نہ جنگ سے نکلنے کا راستہ نہ آسان معاہدے کی گنجائش

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئے احکامات سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے متصادم نہیں، کیونکہ ان میں پیدائشی شہریت سے متعلق آئینی استثناؤں کی نئی تشریح کی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے اوول آفس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے حکم نامے پر دستخط کے ساتھ ہی برتھ ٹورازم پر پابندی نافذ ہو گئی ہے۔

نئے ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت امریکا میں تعینات غیر ملکی حکومتوں کے ملازمین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں اور دشمن غیر ملکی قرار دیے جانے والے افراد کے بچوں کے شہریت کے حقوق بھی محدود کیے گئے ہیں۔ اگر کانگریس مجوزہ قانون منظور کرتی ہے تو امریکی زیرِ انتظام علاقوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی خودکار شہریت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ کے یہ نئے احکامات بھی قانونی چیلنجز کا سامنا کر سکتے ہیں۔ امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) سمیت متعدد امیگریشن اور شہری حقوق کی تنظیموں نے انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کو بائی پاس کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عدالت میں برقرار نہیں رہ سکیں گے۔

صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے 30 جون کے فیصلے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ لوگ برتھ ٹورازم کو کاروبار بنا چکے ہیں، لیکن ان کی انتظامیہ اس عمل کو مزید جاری نہیں رہنے دے گی۔

مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ نے 2028 کے صدارتی انتخاب کے لیے جے ڈی وینس کی حمایت کا اشارہ دے دیا

یاد رہے کہ ٹرمپ نے 2025 میں منصب سنبھالتے ہی ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس کے تحت ایسے بچوں کی امریکی شہریت تسلیم نہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی جن کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) نہ ہو۔ تاہم امریکی سپریم کورٹ نے اسے آئین کے چودھویں ترمیمی حق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا۔

امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے قریباً تمام افراد کو، چند محدود استثناؤں کے علاوہ، پیدائشی طور پر امریکی شہریت حاصل ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ یہ آئینی ضمانت ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے سے نافذ ہے اور اسے صدارتی حکم کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کی جج جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر، فل کورٹ ریفرنس میں خدمات کو خراجِ تحسین

اسلام آباد سیف سٹی توسیعی منصوبے کا 85 فیصد کام مکمل، 30 ستمبر تک تکمیل کا ہدف

بڑھتی ہوئی پیٹرولیم لیوی کے خلاف، جماعت اسلامی کا ملک بھر کے 510مقامات پر آج دھرنا دینے کا اعلان

نوکری سے برطرفی کے خوف نے میٹا کی ملازمہ کو بچوں کی منصوبہ بندی ترک کرنے پر مجبور کردیا

ہیلتھ کیئر : غلطی تسلیم کرنے سے بہتری کا سفر

ویڈیو

آزاد کشیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا، ہم پیپلز پارٹی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، شاہ غلام قادر

شہبازشریف کا مستقبل کیا؟ بڑی خبر، کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ پی ٹی آئی کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام، اندر کی خبر

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟