امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ ایگزیکٹو آرڈر مسترد کیے جانے کے بعد پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) کو محدود کرنے کی نئی کوشش کرتے ہوئے 2 نئے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کر دیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق نئے احکامات کے تحت برتھ ٹورازم(Birth Tourism) پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے تحت حاملہ خواتین صرف بچے کی پیدائش کے لیے امریکا آتی ہیں تاکہ ان کے بچوں کو امریکی شہریت حاصل ہو سکے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ: ٹرمپ مشکل دوراہے پر، نہ جنگ سے نکلنے کا راستہ نہ آسان معاہدے کی گنجائش
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئے احکامات سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے متصادم نہیں، کیونکہ ان میں پیدائشی شہریت سے متعلق آئینی استثناؤں کی نئی تشریح کی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے اوول آفس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے حکم نامے پر دستخط کے ساتھ ہی برتھ ٹورازم پر پابندی نافذ ہو گئی ہے۔
نئے ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت امریکا میں تعینات غیر ملکی حکومتوں کے ملازمین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں اور دشمن غیر ملکی قرار دیے جانے والے افراد کے بچوں کے شہریت کے حقوق بھی محدود کیے گئے ہیں۔ اگر کانگریس مجوزہ قانون منظور کرتی ہے تو امریکی زیرِ انتظام علاقوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی خودکار شہریت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
President Trump signed executive orders limiting birthright citizenship, including restrictions on ‘birth tourism,’ bypassing a Supreme Court ruling that struck down earlier restrictions as unconstitutional https://t.co/6vPjeyvFmr pic.twitter.com/DpyMkRrAOX
— Reuters (@Reuters) August 7, 2026
ٹرمپ کے یہ نئے احکامات بھی قانونی چیلنجز کا سامنا کر سکتے ہیں۔ امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) سمیت متعدد امیگریشن اور شہری حقوق کی تنظیموں نے انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کو بائی پاس کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عدالت میں برقرار نہیں رہ سکیں گے۔
صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے 30 جون کے فیصلے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ لوگ برتھ ٹورازم کو کاروبار بنا چکے ہیں، لیکن ان کی انتظامیہ اس عمل کو مزید جاری نہیں رہنے دے گی۔
مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ نے 2028 کے صدارتی انتخاب کے لیے جے ڈی وینس کی حمایت کا اشارہ دے دیا
یاد رہے کہ ٹرمپ نے 2025 میں منصب سنبھالتے ہی ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس کے تحت ایسے بچوں کی امریکی شہریت تسلیم نہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی جن کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) نہ ہو۔ تاہم امریکی سپریم کورٹ نے اسے آئین کے چودھویں ترمیمی حق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا۔
امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے قریباً تمام افراد کو، چند محدود استثناؤں کے علاوہ، پیدائشی طور پر امریکی شہریت حاصل ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ یہ آئینی ضمانت ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے سے نافذ ہے اور اسے صدارتی حکم کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔














