اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں تھانے کے باہر ہونے والے خودکش دہشتگردانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سلامتی کونسل نے حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلخانہ اور حکومتِ پاکستان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
سلامتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 2 اگست 2026 کو سوات کے علاقے کبل میں تھانے کے باہر ایک بزدلانہ خودکش حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 16 پاکستانی شہری جاں بحق (جن میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں) اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے قبول کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے سوات کبل پولیس اسٹیشن کے باہر خودکش دھماکہ، پولیس جوانوں سمیت 14 افراد جاں بحق، 18 سے زیادہ زخمی
سلامتی کونسل کے اراکین نے اعادہ کیا کہ دہشتگردی اپنے تمام روپ اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے شدید ترین خطرات میں سے ایک ہے۔ کسی بھی قسم کے دہشتگردانہ اقدامات مجرمانہ اور ناپائیدار ہیں، قطع نظر اس کے کہ ان کا مقصد کچھ بھی ہو یا وہ کہیں بھی اور کسی کی طرف سے بھی کیے گئے ہوں۔
UN Security Council Press Statement on Terrorist Attack in Swat, Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan pic.twitter.com/koz2RV52aw
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) August 7, 2026
کونسل کے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ اس مذموم کارروائی کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں، مالی معاونت کرنے والوں اور پشت پناہی کرنے والوں کو جوابدہ بنایا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے لاشوں کی بے حرمتی، ’یہ اسلام نہیں، بدترین حیوانیت ہے‘، کالعدم ٹی ٹی پی کا وحشیانہ چہرہ پھربے نقاب، علما کا شدید ردعمل
سلامتی کونسل نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔
بیان کے آخر میں سلامتی کونسل کے اراکین نے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام ریاستیں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق دہشتگردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔














