وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے پاکستان سے سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات میں اضافے کے لیے کارکردگی پر مبنی مراعاتی اسکیم کو حتمی شکل دینے کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات نے نئے ریکارڈ قائم کر دیے، اس کامیابی کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے؟
مجوزہ اسکیم کا مقصد موجودہ ٹیکس نظام میں تبدیلی کیے بغیر مچھلی اور دیگر سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
وفاقی وزیر نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ اسکیم کے تحت برآمدات میں اضافی کارکردگی دکھانے والے برآمدکنندگان کو مراعات دی جائیں گی جبکہ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ برقرار رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کی سمندری خوراک کی صنعت کی مسابقت میں اضافہ ہوگا، نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی اور برآمدات کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ماہی گیری کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے یہ موزوں وقت ہے جبکہ بہتر مراعات اور برآمدکنندگان کے ساتھ قریبی روابط کے ذریعے سمندری خوراک کی برآمدات اور قومی معیشت میں اس شعبے کے کردار کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور وسان نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہدفی مراعات اور برآمدکنندگان کے ساتھ مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے پاکستان کی سمندری خوراک کی عالمی منڈیوں میں مسابقت کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں جو اس شعبے کی برآمدی آمدن اور روزگار کی فراہمی میں اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
مزید پڑھیے: پاکستان کی سی فوڈ برآمدات کو امریکی مارکیٹ میں 4 سال کی توسیع مل گئی
انہوں نے کہا کہ حکومت سمندری خوراک کی برآمدات بڑھانے، معیار کو بہتر بنانے اور ہدفی مراعات کے ساتھ ساتھ صنعت سے قریبی تعاون کے ذریعے عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
محمد جنید انور چوہدری نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ برآمدکنندگان، پروسیسنگ صنعت اور دیگر متعلقہ فریقین سے مشاورت کرکے ایسی قابلِ عمل سفارشات مرتب کرے جن سے برآمدات میں اضافہ، ویلیو ایڈیشن کو فروغ اور عالمی سطح پر پاکستان کے مقام کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
4 رکنی کمیٹی کی سربراہی فشریز ڈویلپمنٹ کمشنر ڈاکٹر محمد حفیظ الرحمان کریں گے جبکہ اس میں کورنگی فش ہاربر اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شاہد، میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور وسان اور اسسٹنٹ کمشنر فشریز محمد فرحان خان بھی شامل ہوں گے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی سی فوڈ برآمدات میں تاریخی اضافہ، پہلی بار 50 کروڑ ڈالر کا ہدف عبور
وفاقی وزیر نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر مجوزہ مراعاتی نظام کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے۔ کمیٹی نمایاں کارکردگی دکھانے والے مچھلی برآمدکنندگان کے لیے قومی اعزازات سے متعلق تجاویز بھی تیار کرے گی اور حتمی فریم ورک مرتب کرنے سے قبل صنعت سے وابستہ تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کرے گی۔













