مصنوعی ذہانت نے پہلی بار نئے وائرس ڈیزائن کر دیے، طبی تحقیق میں بڑی پیشرفت لیکن نئے خطرات بھی

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی سائنس دانوں نے پہلی بار مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی مدد سے ایسے نئے وائرس تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جو مکمل طور پر فعال ہیں اور لیبارٹری میں اپنی افزائش بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے ہاتھوں انسانیت کے خاتمے کے کتنے فیصد امکانات ہیں، ماہرین کے اندازے

ماہرین نے اس کامیابی کو طبی سائنس میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے تاہم اس کے ساتھ ہی ممکنہ حفاظتی اور سیکیورٹی خدشات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیے گئے 16 نئے وائرس صرف بیکٹیریا کو متاثر کرتے ہیں اور انسانوں کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں رکھتے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مصنوعی ذہانت نے مکمل جینیاتی خاکہ تیار کیا ہے جس سے نئے وائرس تخلیق کیے گئے۔

اس تحقیق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت مستقبل میں بیماریوں کے علاج کے لیے نئے راستے کھول سکتی ہے خاص طور پر ایسے بیکٹیریا کے خلاف جو اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکے ہیں۔

وائرس بنانے میں مصنوعی ذہانت نے کیسے مدد کی؟

اس تحقیق میں استعمال ہونے والے اے آئی ماڈلز ایوو ون اور ایوو ٹو کو وائرس، بیکٹیریا، پودوں اور انسانوں کے جینیاتی کوڈ پر تربیت دی گئی۔ یہ ماڈلز اسی انداز میں کام کرتے ہیں جیسے چیٹ جی پی ٹی الفاظ کی ترتیب کا اندازہ لگاتا ہے، تاہم یہ جینیاتی معلومات یا ’زندگی کی زبان‘ کو سمجھ کر نئے جینیاتی ڈیزائن تیار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: نوسرباز آپ کی آواز چرا سکتے ہیں لیکن ایک راز نہیں جان سکتے، جانیے اے آئی فراڈ سے بچنے کا مؤثر طریقہ

بعد ازاں ان ماڈلز کو ایسے مخصوص وائرس تیار کرنے کے لیے بہتر بنایا گیا جو صرف بیکٹیریا پر حملہ کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ 302 ڈیزائنز میں سے بہترین نمونے منتخب کیے اور لیبارٹری میں ان کی تیاری کی، جن میں سے 16 وائرس ای کولی بیکٹیریا کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے میں کامیاب رہے۔

نئی تحقیق سے علاج کے امکانات

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس، جنہیں بیکٹیریوفیج کہا جاتا ہے مستقبل میں ان انفیکشنز کے علاج میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جو اینٹی بایوٹکس سے ٹھیک نہیں ہوتے۔ اس پیشرفت سے ایسی نئی ادویات اور علاج تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو موجودہ طبی طریقوں سے زیادہ مؤثر ہوں۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر برائن ہائی نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ مصنوعی ذہانت نے مکمل جینیاتی خاکہ تیار کیا ہے جو نہ صرف فعال ہے بلکہ خلیوں کے اندر اپنی سرگرمیاں بھی انجام دے سکتا ہے۔

ماہرین نے خطرات سے بھی خبردار کردیا

اگرچہ اس کامیابی کو طبی تحقیق کے لیے امید افزا قرار دیا جا رہا ہے تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہی ٹیکنالوجی مستقبل میں غلط مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ماہرین ڈاکٹر تھامس انگلسبی اور ڈاکٹر مورٹز ہانکے نے کہا کہ اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ مصنوعی ذہانت نئے وائرس بنا سکتی ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے کیسے روکا جائے۔

مزید پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف

انہوں نے زور دیا کہ ایسے وائرس تیار کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے جو انسانوں یا دیگر جانداروں میں بیماری پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

تحقیق میں حفاظتی اقدامات

تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ اس منصوبے میں صرف ایسے وائرس استعمال کیے گئے جو انسانوں یا جانوروں کو متاثر نہیں کرتے بلکہ صرف مخصوص بیکٹیریا پر حملہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام تجربات انتہائی محفوظ لیبارٹری میں کیے گئے اور مصنوعی ذہانت کی تربیت کے دوران انسانوں کو متاثر کرنے والے وائرسوں کو جان بوجھ کر ڈیٹا سیٹ سے خارج رکھا گیا۔

مستقبل میں کیا ممکن ہوسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق موجودہ تحقیق صرف نسبتاً سادہ وائرسوں تک محدود ہے کیونکہ ان کا جینیاتی کوڈ تقریباً 5,400 بنیادی اجزا پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ کسی زندہ خلیے کا سب سے چھوٹا جینیاتی نظام تقریباً 5 لاکھ اجزا رکھتا ہے اور انسانی جینوم تقریباً 3 ارب اجزا پر مشتمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا

اس کے باوجود سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں مزید پیچیدہ حیاتیاتی نظاموں کے ڈیزائن میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے تاہم اس کے لیے سخت حفاظتی اصول، نگرانی اور بین الاقوامی ضابطوں کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ ٹیکنالوجی صرف انسانی بھلائی کے لیے استعمال ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سندھ میں اسکولوں کے لیے نئے اوقات کار، نوٹیفکیشن جاری

امریکی ویزا پالیسی میں نئی تبدیلی، غیر ملکی صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کا فیصلہ

پاکستانی اسپنر نعمان علی لنکا شائر کا حصہ بن گئے، کاؤنٹی چیمپیئن شپ میں ایکشن میں نظر آئیں گے

ملک بھر میں بجلی کی قیمت میں اضافہ، اطلاق اگست کے بلز میں ہوگا

امریکی معیشت کو تاریخی جھٹکا، 23 ہزار ملازمتیں ختم، ٹریژری ییلڈز میں نمایاں کمی

ویڈیو

’۔۔۔ ایک دستخط‘: تجارتی خسارے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزر لینڈ کو دھمکی دے دی

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

 ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟