50 عالمی ماہرین کا طالبان کے اقدامات کو ’صنفی امتیاز‘ کا بین الاقوامی جرم قرار دینے کا مطالبہ

ہفتہ 8 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

50 سے زائد ممتاز عالمی قانون دانوں، انسانی حقوق کے ماہرین اور سابق بین الاقوامی عہدیداروں نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ طالبان کے مبینہ سلوک کو ’صنفی امتیاز‘ قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کے تحت جرم تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ ’صنفی امتیاز اور اس کے تباہ کن اثرات سے متعلق بین الاقوامی اعلامیے‘ میں کیا گیا ہے، جسے 13 اگست کو جاری کیا جائے گا۔ اعلامیے کا مقصد افغان خواتین اور لڑکیوں کی حمایت کرنا اور صنفی امتیاز کو بین الاقوامی قانون کے تحت باقاعدہ جرم قرار دینے کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔

منتظمین کے مطابق یہ اعلامیہ 18 ماہ تک جاری رہنے والے بین الاقوامی قانون کے ماہرین اور افغان خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مشاورتی عمل کے بعد تیار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بغلان میں طالبان کی چوکی پر مخالف جنگجوؤں کا حملہ اور قبضہ

اعلامیے پر دستخط کرنے والوں میں نوبیل انعام یافتگان، بین الاقوامی عدالتوں کے سابق جج، اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار اور افغانستان و جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔

اعلامیے میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق مجوزہ عالمی کنونشن میں صنفی امتیاز کی واضح ممانعت شامل کی جائے اور موجودہ بین الاقوامی قانونی نظام کے تحت بھی اس معاملے سے نمٹا جائے۔

دستخط کنندگان کا کہنا ہے کہ طالبان کے دور حکومت میں تمام افغان شہری سیاسی، سیکیورٹی، معاشی اور انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم خواتین اور لڑکیاں ان حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔

اعلامیے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ طالبان نے صنفی امتیاز پر مبنی ایسا نظام قائم کر رکھا ہے جس کے تحت لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں، خواتین کے روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت پر قدغنیں اور ان کی آزادیوں پر وسیع پابندیاں عائد ہیں۔

اعلامیے میں ہرات میں لباس سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں درجنوں خواتین کی گرفتاری اور اس کے بعد ہونے والے احتجاج کو بھی ان پالیسیوں کے تسلسل کی مثال قرار دیا گیا ہے۔

دستخط کنندگان نے بعض عالمی قوتوں کی جانب سے طالبان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں پر بھی تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ مبینہ صنفی امتیاز کے ذمہ دار افراد کا احتساب کیا جائے جبکہ متاثرین کو ازالہ بھی فراہم کیا جائے۔

اعلامیہ 13 اگست کو مشی گن یونیورسٹی کے قانون کے شعبے کی میزبانی میں ایک آن لائن تقریب کے دوران جاری کیا جائے گا، جس میں خواتین کے حقوق کے کارکن، قانونی ماہرین اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اظہار خیال کریں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp