ماہرین کے مطابق پاکستان کے بڑے صوبوں کو مزید چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے سے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں سرکاری فیصلوں میں تیزی، بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری اور پسماندہ علاقوں کی ترقی ممکن ہوگی۔
بڑے صوبوں میں وسیع جغرافیائی حدود اور آبادی کے باعث دور دراز علاقوں تک حکومتی اداروں کی رسائی محدود رہتی ہے، جس سے فیصلہ سازی سست، سرکاری خدمات کی فراہمی کمزور اور ترقیاتی منصوبوں میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ تعلیم، صحت، پولیس، انفرا اسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں بھی بعض علاقوں کو مطلوبہ توجہ نہیں مل پاتی۔
چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے حکومت شہریوں کے زیادہ قریب آسکتی ہے۔ مقامی سطح پر انتظامیہ کی موجودگی سے سرکاری دفاتر تک رسائی آسان اور کم خرچ ہوگی، جبکہ عوام اپنے منتخب نمائندوں اور انتظامی افسران سے براہ راست رابطہ کرسکیں گے۔ اس سے حکومتی اداروں کی کارکردگی اور جواب دہی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا فارمولا کیا ہونا چاہیے؟
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی چھوٹے یونٹس زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ ہر علاقے کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ مقامی حالات کے مطابق تعلیمی منصوبہ بندی، اسکولوں کی نگرانی، اسپتالوں کی بہتری اور صحت کے مخصوص مسائل پر زیادہ توجہ دی جاسکتی ہے۔
امن و امان کے حوالے سے بھی چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ بہتر ہوسکتا ہے۔ مقامی سطح پر موجود انتظامیہ جرائم، ہنگامی حالات اور عوامی تحفظ کے مسائل پر زیادہ تیزی سے ردعمل دے سکتی ہے۔

چھوٹے یونٹس کا ایک اہم فائدہ متوازن معاشی اور علاقائی ترقی بھی ہوسکتا ہے۔ بڑے شہروں کے بجائے پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی وسائل کی زیادہ منصفانہ تقسیم، سڑکوں، اسکولوں، ہسپتالوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دی جاسکتی ہے۔ اس سے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے اور بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی میں کمی آنے کی بھی توقع ہے۔
اس انتظامی ڈھانچے کے حامیوں کے مطابق نئے یونٹس بننے سے انتظامیہ، تعلیم، صحت اور پولیس سمیت مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے بھی بہتر ماحول پیدا ہوگا۔
چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے پالیسی سازی میں بھی مقامی ضروریات کو زیادہ اہمیت دی جاسکتی ہے۔ ہر علاقے کے لیے ایک ہی طرز کی پالیسی اپنانے کے بجائے وہاں کے مخصوص مسائل اور وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جاسکے گی۔
یہ بھی پڑھیں:مجھے محسن نقوی کی قابلیت پر کوئی شک نہیں، اگر وہ چاہیں تو نئے صوبے بن جائیں گے، مفتاح اسماعیل
ماہرین کے مطابق مؤثر حکمرانی کا بنیادی اصول یہی ہے کہ حکومت عوام کے قریب ہو۔ اگر انتظامی یونٹس کو مناسب اختیارات، وسائل اور جواب دہی کے نظام کے ساتھ تشکیل دیا جائے تو چھوٹے یونٹس نہ صرف سرکاری خدمات بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ متوازن ترقی، معاشی سرگرمیوں اور عوامی اعتماد میں بھی اضافہ کرسکتے ہیں۔
تاہم صرف صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تعداد بڑھانا کافی نہیں ہوگا؛ کامیابی کے لیے اختیارات کی مناسب تقسیم، مالی وسائل، مضبوط مقامی حکومت، شفاف نگرانی اور اداروں کی جواب دہی بھی ضروری ہوگی۔













