امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تاریخی مذاکرات کی میز سجانے پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ناقدین کو ساؤتھ ایشین وائسز نے کرارا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امن عمل میں تعطل کی ذمہ داری ثالث پر نہیں بلکہ تنازع کے فریقین پرعائد ہوتی ہے، پاکستان نے وہ کر دکھایا جو بڑی عالمی طاقتیں نہ کر سکیں۔
معروف جریدے ساؤتھ ایشین وائسز نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے ثالثی کردار کو ناکامی سے جوڑنا قطعاً درست نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش، برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ
ساؤتھ ایشین وائسز کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی اور دیرپا امن کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ تجزیے کے مطابق پاکستان نے ایسے وقت میں دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جب تنازع ‘انتہائی خطرناک‘ مرحلے میں داخل ہوچکا تھا۔
ثالث کا کام امن یا جنگ مسلط کرنا نہیں رکوانا ہوتا ہے
ساؤتھ ایشین وائسز کے تجزیے کے مطابق جنگ کے دوران ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب مذاکرات فوری طور پر دیرپا امن میں تبدیل نہ ہوں، تاہم تنازعات کے حل کی پیچیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ثالث کو ناکامی کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔
کامیاب ثالثی کے لیے ‘صحیح وقت’ کی اہمیت
تجزیے میں تنازعات کے حل کے ماہر ولیم زارٹمین کے تصور ‘دوطرفہ تکلیف دہ تعطل’ کا حوالہ دیا گیا ہے، ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق جب دونوں فریقین یہ سمجھنے لگیں کہ وہ اضافی نقصان اٹھائے بغیر تنازع حل نہیں کر سکتے، تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تیسرے فریق کی ثالثی کے لیے حالات سازگار ہوتے ہیں۔
تجزیے کے مطابق پاکستان نے عین اسی وقت مداخلت کی جب امریکا اور ایران دونوں اس تعطل کی کیفیت تک پہنچ چکے تھے۔
ساؤتھ ایشین وائسز کے تجزیے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی اور 1979 کے انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی تلخ چلے آ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:امریکا اور ایران کے امن معاہدے کا عالمی سطح پر خیرمقدم، پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف
مئی 2025 کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال اور جنگ کے بادلوں کے درمیان پاکستان نے اپنی جغرافیائی اہمیت، رسائی اور بھرپور سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے فریقین کے درمیان رابطہ قائم کیا۔
اسلام آباد میں ہونے والے ان تاریخی اور طویل مذاکرات کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ ترین سطح کے نمائندے 20 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک مذاکرات کی میز پر بیٹھے، جسے پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا۔
جیو پوزیشنل کیپیٹل اور تاریخی ثالثی کا اعزاز
ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق پاکستان نے اس وقت فریقین کے درمیان ثالثی کا کٹھن فریضہ سر انجام دیا جب وہ شدید ترین کشیدگی اور باہمی نقصان کے مرحلے میں داخل ہو چکے تھے۔
پاکستان نے چین، فرانس، جرمنی، بھارت اور برطانیہ جیسی بڑی عالمی طاقتوں کے برعکس اپنی منفرد جغرافیائی پوزیشن اور دونوں اطراف کے ساتھ اعتماد کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے کی جانے والی بروقت سفارتی کوششوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کو جنگ روکنے اور بات چیت کی طرف لانے پر مجبور کیا، جو کہ 1971 میں ہنری کسنجر کے خفیہ دورۂ چین کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا سفارتی کارنامہ ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ مئی 2025 کے تنازع کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی، جس میں اسلام آباد نے صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا اور ٹرمپ نے جون 2025 میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی، جہاں اسرائیل، ایران جنگ پر بھی مشاورت کی گئی
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایک طاقت
تجزیے کے مطابق پاکستان کی اہمیت صرف اس کی سفارتی کوششوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی پوزیشن بھی اسے ایک منفرد ثالث بناتی ہے۔
پاکستان ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ اس کے دیرینہ سفارتی تعلقات ہیں۔ اسی طرح چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات بھی اسے خطے کے اہم ممالک کے درمیان رابطے کے لیے موزوں بناتے ہیں۔
تجزیے میں بھارت، اسرائیل، امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم، ولیم زارٹمین اور دیگر بعض حلقوں کی جانب سے اس عمل پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، لیکن تجزیے نے واضح کیا کہ تنازعات کے حل کا عمل وقت اور مناسب حالات کا متقاضی ہوتا ہے جسے ‘میوچل ہرٹنگ سٹیلمیٹ’ یعنی باہمی نقصان کے اصول کے تحت ہی سمجھا جا سکتا ہے۔
تجزیے کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں سے ایران کی قیادت، فوجی صلاحیت اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، تاہم ایران نے بھی خطے میں جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک میں اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے نتیجے میں تیل، گیس اور دیگر اہم اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ یوں تنازع کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہ رہے بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیلنے لگے۔
تجزیے کے مطابق اسی صورتحال میں پاکستان نے سفارتی رابطے کے ذریعے جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔
1971 میں بھی پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا تھا
تجزیے میں پاکستان کے موجودہ کردار کو 1971 کی ایک اہم سفارتی پیش رفت سے بھی جوڑا گیا ہے، جب پاکستان نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے چین کے خفیہ دورے میں سہولت فراہم کی تھی۔
یہ دورہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے عمل میں ایک اہم ابتدائی قدم ثابت ہوا تھا۔
تجزیے کے مطابق 1971 میں پاکستان نے 2 ایسی حکومتوں کے درمیان رابطے کا قابل اعتماد ذریعہ فراہم کیا جن کے درمیان براہ راست سفارتی تعلقات موجود نہیں تھے، جبکہ 2026 میں اس کی جغرافیائی پوزیشن اور امریکا و ایران دونوں کے ساتھ روابط نے اسے دوبارہ ایک اہم ثالثی کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔
جنگ بندی کے بعد بھی مسائل ختم نہیں ہوئے
تجزیے کے مطابق امریکا اور ایران نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے اور بعد میں دونوں جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ مفاہمت کی شرائط معطل ہوچکی ہیں۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے مذاکراتی عمل کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا۔ تجزیے میں اسی نکتے کو پاکستان کے ثالثی کردار کے خلاف ناکامی کے دعوے کو کمزور کرنے والی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
اس کے مطابق اگر فریقین ایک دوسرے پر الزام تراشی کے باوجود مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ سفارتی عمل ابھی ختم نہیں ہوا۔
قطر اور دیگر ممالک کی ثالثی سے بھی سبق
تجزیے میں قطر کی مثال بھی پیش کی گئی ہے، جس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان مختلف مواقع پر ثالثی کی۔ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ ثالثی کرنے والے ملک کو اس وقت دونوں جانب سے تنقید کا سامنا ہوسکتا ہے جب مذاکرات مطلوبہ رفتار سے آگے نہ بڑھیں۔
تجزیے کے مطابق مسئلہ اکثر ثالث نہیں بلکہ تنازع کی بنیادی پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے موجود عدم اعتماد اور دونوں ممالک کے اسٹریٹجک مفادات کسی ایک مذاکراتی دور سے ختم نہیں ہوسکتے۔
دیرپا امن کے لیے وسیع تر مذاکراتی نظام کی تجویز
تجزیے میں تجویز دی گئی ہے کہ مستقبل میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو ایک وسیع تر کثیرالفریقی عمل میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، جس میں عمان، قطر اور عراق جیسے ممالک بھی شامل ہوں۔
اس نقطہ نظر کے مطابق تیسرے فریقوں کی موجودگی اعتماد سازی میں مدد دے سکتی ہے اور دونوں ممالک کو براہ راست تصادم کے بجائے مسلسل مشاورت اور مسئلہ حل کرنے کے عمل میں رکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔
تجزیے میں امریکا اور ایران کے درمیان ماضی کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2013 میں عمان میں ہونے والی خفیہ ملاقاتوں نے بعد میں 2015 کے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے ماحول بنانے میں کردار ادا کیا تھا۔
اصل چیلنج وقت اور اعتماد کا ہے
تجزیے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں سب سے بڑا چیلنج صرف جنگ بندی کرانا نہیں بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے۔ مسلسل کشیدگی نے ایک دوسرے کے ارادوں پر شکوک کو گہرا کردیا ہے، جس کے باعث دیرپا جنگ بندی کا عمل مشکل ہوگیا ہے۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز
اس صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے اہم کام یہ ہوسکتا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان رابطے کا راستہ کھلا رکھے۔ تجزیے کے مطابق ثالث کا کام فریقین کو امن پر مجبور کرنا نہیں بلکہ وہ وقت آنے پر مذاکرات کی میز موجود رکھنا ہے جب دونوں فریق دوبارہ بات چیت کے لیے آمادہ ہوں۔
پاکستان پر تنقید کیوں کی جارہی ہے؟
تجزیے کے مطابق پاکستان کے ثالثی کردار پر امریکا اور خطے کے بعض دیگر ممالک کے حلقوں سے تنقید سامنے آنا اس نوعیت کی سفارت کاری کا معمول ہے۔
مگر تجزیے کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد دوبارہ کشیدگی پیدا ہونے کو محض ثالثی کی ناکامی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جب تک امریکا اور ایران اپنے بنیادی اختلافات، باہمی عدم اعتماد اور علاقائی مفادات کے تنازعات حل نہیں کرتے، اس وقت تک کسی بھی جنگ بندی کے کمزور پڑنے کا امکان موجود رہے گا۔
پاکستان نے کم از کم دونوں فریقوں کو ایک ایسے وقت میں مذاکرات کی میز تک پہنچایا جب براہ راست رابطے کے امکانات انتہائی محدود تھے۔ اسی لیے تجزیے کے مطابق اگر مستقبل میں کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو اسلام آباد کا کردار ختم ہونے کے بجائے مزید اہم ہوسکتا ہے۔














